نجاسات اور پاکی

ناپاک رومال جیب میں رکھنے کی صورت میں نماز پڑھنا

فتوی نمبر :
20546
| تاریخ :
2013-09-28
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

ناپاک رومال جیب میں رکھنے کی صورت میں نماز پڑھنا

مفتی صاحب مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ اگر کسی شخص کے دانت سے نماز کے دوران خون آئے، اور وہ اس خون کو ایک رومال میں تھوک دے، بعد میں وضو دوبارہ کرنے کے بعد وہ ناپاک رومال اپنے جیب میں رکھ کر نماز پڑھے ،تو اس کی نماز ہوگی یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

رومال پر لگنے والا خون اگر ہتھیلی کے پھیلاؤ سے کم ہو ، تو اس صورت میں نماز درست ادا ہو چکی ہے، اعادہ کی ضرورت نہیں، ورنہ اعادہ لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الدر المختار: (وعفا) الشارع (عن قدر درهم) (إلی قوله) (وهو مثقال) عشرون قيراطا (في) نجس (كثيف) له جرم (وعرض مقعر الكف) وهو داخل مفاصل أصابع اليد (في رقيق من مغلظة كعذرة) آدمي اھ (1/ 318)
وفی البحر الرائق: وأشار باشتراط طهارة الثوب إلى أنه لو حمل نجاسة مانعة فإن صلاته باطلة فكذا لو كانت النجاسة في طرف عمامته أو منديله المقصود ثوب هو لابسه فألقى ذلك الطرف على الأرض وصلى فإنه إن تحرك بحركته لا يجوز وإلا يجوز؛ لأنه بتلك الحركة ينسب لحمل النجاسة اھ (۱ْ/ ۲۸۱)واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اسرار محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 20546کی تصدیق کریں
4     2866
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات