فجر کی دو سنتِ مؤکدہ کے بارے میں کیا حکم ہے کیا ہم یہ دوسنتیں فرض نماز کے بعد ادا کرسکتے ہیں؟ میرا ایک دوست سعودی عرب میں رہتا ہے ۔ اُس نے مجھ سے کہا کہ اگر وقت کم رہ جائے اور تم نے یہ دوسنتیں نہیں پڑھی تو پھر تم فرض کے متصل بعد پڑھ لو اور اس نے مجھے اس بات پر دو حدیثیں بھی بتائی ہیں جس کی وجہ سے میں پریشان ہوگیا ہوں از راہِ کرم میری رہنمائی فرمائیں۔
اگر تنہا فجر کی سنتیں رہ جائیں تو ان کو فرض نماز کے فوراْ بعد پڑھنا درست نہیں اور نہ ہی سنتوں کی قضاء ہوتی ہے، تاہم اگر اس سلسلہ میں سائل نے جو حدیثیں اپنے دوست سے سُنی ہیں اگر وہ لکھ کربھیج دے تو اس پر مکرر غور کیا جاسکتا ہے۔
ففي الدر: (ولا يقضيها إلا بطريق التبعية ل) قضاء (فرضها قبل الزوال لا بعده في الأصح) لورود الخبر بقضائها في الوقت المهمل،
وفی رد المحتار: (قوله ولا يقضيها إلا بطريق التبعية إلخ) أي لا يقضي سنة الفجر إلا إذا فاتت مع الفجر فيقضيها تبعا لقضائه لو قبل الزوال؛ وما إذا فاتت وحدها فلا تقضى قبل طلوع الشمس بالإجماع، لكراهة النفل بعد الصبح. وأما بعد طلوع الشمس فكذلك عندهما. وقال محمد: أحب إلي أن يقضيها إلى الزوال كما في الدرر. (2/ 57)۔