مباحات

چاول کی ذخیرہ اندوزی کا شرعی حکم

فتوی نمبر :
19121
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

چاول کی ذخیرہ اندوزی کا شرعی حکم

آج کل کے حالات میں چاول کتنے مدت کے لیے رکھ سکتے ہیں تاکہ قیمت زیادہ ہونے پر بیچے جاسکے۔ باقی کھانے والی اشیاء اور روز مرہ کے استعمال کے اشیاء کے بارے میں اسلام کا کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

غذائی اشیاء کا ضرورت عامہ کے موقع پر روکے رکھنا ممنوع ہے اور ضرورت نہ ہونے کی صورت میں ان کے روکے رکھنے کی کوئی حد نہیں، جبکہ غذائی اشیاء کے علاوہ باقی اسائش و ارائش کی چیزوں میں ذخیرہ اندوزی ممنوع نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي تكملة فتح الملھم: ثم ذهب اكثر الفقهاء إلى ان حرمة الاحتكار مختصة بالاقوات، فأما الادام ، والحلوا، والعسل ، والزيت، واعلاف البهائم فليس فيها احتكار محرم - والثالث : ان يضيق على الناس بشرائه الخ ( الى قوله ) واما احتكار الاشياء الأخرى فيفوض إلى راى الحاكم ، فان راى فى احتكارها ضررا شديدا نظير الضرر في الطعام منعه والا اجازه اھ (۱/ ۵۵۶، تا ۵۵۸) - والله اعلم!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 19121کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات