السلام علیکم !
کیا فرماتے ہیں مفتیان صاحبان اس مسئلے کے بارے میں کہ بعض اوقات کچھ لوگ بچوں کی تصویریں موبائل کے ذریعے یا کمپیوٹر کے ذریعے دیکھتے اور بھیجتے ہیں ۔ تو اس صورت میں کیا بچوں کی تصویر کو دیکھنا جائز ہے یا نہیں ؟ اور جب کوئی ہمیں بھیج رہا ہو انٹرنیٹ کے ذریعے تو کیا ہم وصول کریں یا انکار کر دیں؟ مسئلہ بتلا کر جواب عنایت فرمائیں ۔ جزاک اللہ
موبائل ، کمپیوٹر یا ڈیجیٹل کیمرہ سے کھینچی ہوئی تصویر کا جب تک کسی کاغذ وغیرہ پر پرنٹ نہ نکالا جائے اس وقت تک اس کا تصویر محرم ہونا محل نظر ہے۔ اس لیے محض کمپیوٹر کے ذریعے اس کے دیکھنے یا وصول کرنے کی گنجائش ہے ۔ بشرطیکہ تصویر بے حیائی پر مبنی اور فحش مناظر پر مشتمل نہ ہو۔
ففي تكملة فتح الملھم : أما التلفزيون، والفديو، فلا شك في حرمه استعمالهما بالنظر إلى ما يشتملان عليه من المنكرات الكثيرة ( الى قوله) ولكن هل يتأتى فيها حكم التصوير بحيث أذا كان التلفزيون أو الفديو خاليا من هذه المذكرات بأسرها هل يحرم بالنظر إلى كونها تصويرا ؟ فان لهذا العبد الضعيف عفا الله عنه فيه وقفة ، وذلك لان الصورة المحرمة ما كانت منقوشة أو منحوتة بحيث يصح لها صفة الاستقرار اھ (۱/ ۱۶۳) واللہ اعلم بالصواب