پرائز بانڈز حلال ہیں یا حرام ؟ جو کہ پاکستان میں درج ذیل تفصیل کے ساتھ عام طور پر دستیاب ہوتے ہیں۔ ان پر کوئی سود فراہم نہیں کیا جاتا۔ آپ ہر وقت انہیں واپس کرنے اور اپنی رقم لینے کے مجاز ہیں ۔ جبکہ انعام کی صورت میں رقم تقسیم کی جاتی ہے اور یہ انعام جیتنے کا چانس ہر بانڈ پر برابری کے ساتھ ہوتا ہے ۔ آپ جیت بھی سکتے ہیں اور نہیں بھی، لیکن آپ اپنی جمع پونچی ضائع نہیں کرتے۔
پرائز بانڈ کی رقم در حقیقت حکومت پر قرض ہوتی ہے ،اور اس پر جو نفع دیا جاتا ہے وہ سود ہوتا ہے۔ اس طریقہ کار کی پوری تفصیل یہ ہے کہ حکومت ’’پرائز بانڈز‘‘ والے ہر شخص سے اس کے دیے ہوئے قرض پر سود دینے کا معاہدہ تو نہیں کرتی، لیکن پرائز بانڈز حاصل کرنے والے تمام افراد سے بحیثیت مجموعی بہر حال یہ بات طے ہوتی ہے کہ وہ انہیں انعام ضرور تقسیم کریگی ، اگر وہ ایسا نہ کرے تو ’’ پرائز بانڈز‘‘ رکھنے والا ہر فرد انعام تقسیم کرنے کا نہ صرف مطالبہ کر سکتا ہے ، بلکہ بذریعہ عدالت بھی حکومت کو انعام کی تقسیم پر مجبور کر سکتا ہے ۔ چنانچہ مذکورہ بالا تفصیل سے ’’ پرائز بانڈز‘‘ کی حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آگئی ہے کہ پرائز بانڈز کی رقم حکومت پر قرض ہوتی ہے جس کے لیے کوئی مقررہ مدت نہیں ہوتی ، جب چاہیں وصول کر سکتے ہیں۔ اب یہ بھی سمجھ لیجیئے کہ بانڈز رکھنے والوں کو بصورت انعام جو کچھ ملتا ہے، وہ اسی قرض کی بناء پر ملتا ہے۔ جو بحیثیت مجموعی جملہ انعامی بانڈز رکھنے والوں سے مشروط ہے اور قرض پر ہر قسم کا مشروط نفع احادیث وفقہ کی روشنی میں ناجائز اور سود ہے ۔ اس کو وصول کرنا اور اپنے استعمال میں لانا نا جائز اور حرام ہے ۔ جتنے روپے کا پرائز بانڈ ہے اسی قدر رقم واپس لے سکتے ہیں، زائد نہیں ۔ اگر کسی نے غلطی سے پرائز بانڈز پر ملنے والی رقم حاصل کرلی ہو، تو چونکہ وہ سود ہونے کی وجہ سے حرام ہے (اور مال حرام کا حکم یہ ہے کہ جب اس کا مالک معلوم ہو تو اسے اصل مالک تک پہنچانا ضروری ہے، اگر اصل مالک معلوم نہ ہو یا اس تک پہنچانا متعذر ہو تو اسے مالک کی طرف سے ’’ بغیر بتائے‘‘ بلانیت ثواب صدقہ کرنا واجب ہے) لہذا وہ رقم بلا نیت ثواب صدقہ کر دی جائے ۔
ففي بحوث في قضايا فقهية معاصرة: فجاءت فكرة إصدار سندات القروض تشجيعا لأصحاب الأموال في القرض، وإزالة لمخاوفهم، وذلك بطريقين: الأول: بإطماع أصحاب الأموال بتحديد فائدة ربوية على هذه القروض. والثاني: يجعل هذه السندات محلا للتداول، بأن حاملها كلما أراد أن يحصل على سيولة، جاز له أن يبيعها في السوق المفتوحة بقيمتها السوقية التي تزيد في الغالب عن قيمتها الاسمية. (إلى قوله ) ولكن هذا الطريق مبني على أساس القرض الربوي الذي لا تبيحه الشريعة الإسلامية في حال من الأحوال، وفيه من المفاسد الشرعية والاقتصادية ما ليس هذا محل بسطها. (ص: 227) والله اعلم بالصواب
انعامی بانڈ (پرائز بانڈز) کی اسکیم کے تحت ملنے والے انعام کو اپنی ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ پرائز بانڈ 0