اگر کوئی مسلمان نماز نہ پڑھے یا صرف جمعے کی نماز پڑھے کیا اس کو کافر کہنا جائز ہے؟۔ (۲) مسلمان کو کافر کہنے کے بارے میں کوئی حدیث یا قرآن کا ترجمہ ہو تو واضح فرمادے؟
بلا عذر نماز نہ پڑھنا گناہ کبیرہ ہے احادیث مبارکہ میں ایسے شخص کے بارے میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں تاہم فقط نماز چھوڑ دینے سے آدمی کافر نہیں ہوتا اور نہ ہی ایسے شخص کو کافر کہنا جائز ہے۔ قرآن کریم اور حدیث مبارکہ جس میں مسلمان کو کافر کہنے کی ممانعت آئی ہے درج ذیل ہیں۔
ففی أحكام القرآن للجصاص: قوله تعالى ﴿ولا تقولوا لمن ألقى إليكم السلام لست مؤمنا﴾ فحكم الله تعالى بصحة إيمان من أظهر الإسلام وأمرنا بإجرائه على أحكام المسلمين وإن كان في المغيب على خلافه اھ (3/ 224)
و في صحيح مسلم: عن عبد الله بن دينار أنه سمع ابن عمر، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أيما امرئ قال لأخيه: يا كافر، فقد باء بها أحدهما، إن كان كما قال، وإلا رجعت عليه " اھ (1/ 79)
قال شرح النووي على مسلم: وذلك أن مذهب أهل الحق أنه لا يكفر المسلم بالمعاصي كالقتل والزنا اھ (2/ 49) والله اعلم بالصواب