میں امین علی شاہ ،بالغ ،سنی ،پاکستانی ،درجہ ذیل مسائل پوچھنا چاہتا ہوں ۔میں فقہ حنفی کا پیروکار ہوں اور اسی مذہب کا نظریہ رکھنا ہوں مثلاً پانچ وقت نماز بدون رفع الیدین وغیرہ وغیرہ ،میں صحابہ کرام کی تعظیم کرتاہوں ،تابعین اور تبع تابعین اور تمام اولیا ء کرام کی بھی تعظیم کرتاہوں ، میں نے کبھی بھی شیعہ مسلک کی پیروی نہیں کی اور نا کبھی ان کے معروف اور غیر معروف عقائد کی حمایت کی ہے ۔جیسا کہ کلمہ کا فرق ،نماز کا طریقہ ،نماز کی تعداد ،متعہ ،زکوٰۃوغیرہ یہ تمام بیان کرنے کے بعد ، اگر کوئی صرف میرے نام کی بنیاد پر یعنی ''امین علی شاہ '' یہ دعویٰ کرے کہ میں شیعہ ہوں اور یہاں تک کہ میرے دفتری معاملات رد کرے اس بنیاد پر صرف اس لیے کہ وہ مجھے شیعہ سمجھتاہے ،ایسے فعل کے بارے میں آپ حضرات کیا فتویٰ دیتے ہیں ؟
سائل کا بیان اگر واقعۃًدرست اور مبنی برحقیقت ہو اس میں کسی طرح کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو تو محض نام میں لفظ’’ شاہ‘‘ کی وجہ سے کسی شخص کا اس کے ساتھ شیعوں والا سلوک کرنا اور اس کے دفتری معاملات کو رد کرنا بلاشبہ زیادتی اور ناجائز طرز عمل ہے جس سے احتراز کی اشد ضرورت ہے جس شخص نے اس معاملے میں بلاوجہ و بغیر ثبوت کے سائل کی دل آزاری یا اسے تکلیف پہنچائی ہے اُسے اس پر معذرت بھی کرنی چاہیے ۔
قال تعالی: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ} [الحجرات: 12]
وفی أحكام القرآن للجصاص: وقوله تعالى: ﴿اجتنبوا كثيرا من الظن إن بعض الظن إثم﴾ فالظن على أربعة أضرب محظور ومأمور به ومندوب إليه ومباح فإن الظن المحظور فهو سوء الظن بالله تعالى (إلی قولہ) وكذلك سوء الظن بالمسلمين الذين ظاهرهم العدالة محظور مزجور عنه وهو من الظن المحظور المنهي عنه (5/ 287،288)
وفی صحيح مسلم: عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «إياكم والظن، فإن الظن أكذب الحديث، ولا تحسسوا، ولا تجسسوا، ولا تنافسوا، ولا تحاسدوا، ولا تباغضوا، ولا تدابروا، وكونوا عباد الله إخوانا» (4/ 1985)