مخاصمات

سنی کے نام میں ’’شاہ‘‘ ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ ’’شیعہ‘‘ جیسا سلوک کرنا

فتوی نمبر :
18048
| تاریخ :
2020-10-26
معاملات / مخاصمات / مخاصمات

سنی کے نام میں ’’شاہ‘‘ ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ ’’شیعہ‘‘ جیسا سلوک کرنا

میں امین علی شاہ ،بالغ ،سنی ،پاکستانی ،درجہ ذیل مسائل پوچھنا چاہتا ہوں ۔میں فقہ حنفی کا پیروکار ہوں اور اسی مذہب کا نظریہ رکھنا ہوں مثلاً پانچ وقت نماز بدون رفع الیدین وغیرہ وغیرہ ،میں صحابہ کرام کی تعظیم کرتاہوں ،تابعین اور تبع تابعین اور تمام اولیا ء کرام کی بھی تعظیم کرتاہوں ، میں نے کبھی بھی شیعہ مسلک کی پیروی نہیں کی اور نا کبھی ان کے معروف اور غیر معروف عقائد کی حمایت کی ہے ۔جیسا کہ کلمہ کا فرق ،نماز کا طریقہ ،نماز کی تعداد ،متعہ ،زکوٰۃوغیرہ یہ تمام بیان کرنے کے بعد ، اگر کوئی صرف میرے نام کی بنیاد پر یعنی ''امین علی شاہ '' یہ دعویٰ کرے کہ میں شیعہ ہوں اور یہاں تک کہ میرے دفتری معاملات رد کرے اس بنیاد پر صرف اس لیے کہ وہ مجھے شیعہ سمجھتاہے ،ایسے فعل کے بارے میں آپ حضرات کیا فتویٰ دیتے ہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کا بیان اگر واقعۃًدرست اور مبنی برحقیقت ہو اس میں کسی طرح کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو تو محض نام میں لفظ’’ شاہ‘‘ کی وجہ سے کسی شخص کا اس کے ساتھ شیعوں والا سلوک کرنا اور اس کے دفتری معاملات کو رد کرنا بلاشبہ زیادتی اور ناجائز طرز عمل ہے جس سے احتراز کی اشد ضرورت ہے جس شخص نے اس معاملے میں بلاوجہ و بغیر ثبوت کے سائل کی دل آزاری یا اسے تکلیف پہنچائی ہے اُسے اس پر معذرت بھی کرنی چاہیے ۔

مأخَذُ الفَتوی

قال تعالی: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ} [الحجرات: 12]
وفی أحكام القرآن للجصاص: وقوله تعالى: ﴿اجتنبوا كثيرا من الظن إن بعض الظن إثم﴾ فالظن على أربعة أضرب محظور ومأمور به ومندوب إليه ومباح فإن الظن المحظور فهو سوء الظن بالله تعالى (إلی قولہ) وكذلك سوء الظن بالمسلمين الذين ظاهرهم العدالة محظور مزجور عنه وهو من الظن المحظور المنهي عنه (5/ 287،288)
وفی صحيح مسلم: عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «إياكم والظن، فإن الظن أكذب الحديث، ولا تحسسوا، ولا تجسسوا، ولا تنافسوا، ولا تحاسدوا، ولا تباغضوا، ولا تدابروا، وكونوا عباد الله إخوانا» (4/ 1985)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اسد اللہ قلاتی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 18048کی تصدیق کریں
0     819
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • فریقین میں پیسوں کے متعلق کا قرض اور ہدیہ میں اختلاف کا حکم

    یونیکوڈ   مخاصمات 3
  • سنی کے نام میں ’’شاہ‘‘ ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ ’’شیعہ‘‘ جیسا سلوک کرنا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • قرآن پر جھوٹا حلف اٹھانے والے کا حکم-جھوٹی قسم سے کسی چیز کے مالک ہونے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • باپ کی زندگی میں, بیٹے کا اپنی کمائی سے خریدے ہوئےگھر میں وراثت کا مسئلہ

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • زمین اور گھر کی خریدی کے تین مہینے بعد شفعہ کا دعوی کرنا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • گاڑی گم ہونے پر ، ڈرائیور سے ،زمانۂ گمشدگی کےمتوقع منافع اور گاڑی تلاش کرنے کے اخراجات لینا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • بیٹا اگر ذاتی کمائی سے مکان بنائے تو اس میں اس کے والد اور بھائیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • بلا سببِ شرعی بھائی کی جائیداد میں حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • عورت طلاق کا دعویٰ کرے تو اولاد کی شہادت کی کیا حیثیت ہے ؟

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • ساس کا اپنی بہو کا سونا اس کی اجازت کے بغیر بیٹی کو دیدینا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • حقوق ادا نہ کرنے والے اور طلاق نہ دینے والے شوہر سے خلاصی کا طریقہ

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • شوہر کی جانب سے اپنی بیوی پر کسی سے ناجائز تعلقات کے دعوے میں جرگہ کی رہنمائی

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • دوسرے کی زمین غصب کرنے کا حکم-اور اس کو اسی وجہ سے قتل کرنا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • جرگے کا عورت کے حق میں شوہر کے خلاف یکطرفہ پابندیا ں عائد کرنا

    یونیکوڈ   انگلش   مخاصمات 0
  • مشترکہ گھر کی دیوار میں دو بھائیوں کے درمیان تنازعہ اور اس کا حکم

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • زمین پندرہ سال سے زائد ملکیت میں ہو اور بلا مانع شرع کوئی مدعی سامنے نہ آئے

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • سرکاری انتقال کے بغیر خریدی گئی زمین کی ملکیت کا شرعی حکم

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • جرگہ کا فیصلہ نہ ماننے سے شفعہ کاحق باقی رہے گا یا نہیں؟

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
Related Topics متعلقه موضوعات