میں جب بھی واش روم سے باہر آتا ہوں تو مجھے کچھ قطرے آتے ہیں ، میں جتنی بھی کوشش کرلوں لیکن ان کو روک نہیں سکتا ، اب میں نماز انہیں کپڑوں میں پڑھ لیتا ہوں ، تو کیا میری نماز پر کوئی فرق تو نہیں پڑتا ؟ اگر پڑتا ہے تو مجھے برائے مہربانی اس کا کوئی حل بتلادیں۔
سائل کو چاہیۓ کہ پیشاب سے فارغ ہو کر قطروں کے بند ہونے کا انتظار اور اچھی طرح اطمینان کرلے کہ اب قطرے نہیں آئیں گے ، اس کے بعد کپڑوں کا متعلقہ مقام و حصہ دھو کر پھر وضو کرکے نما زپڑھنے کا اہتمام چاہیۓ ۔
و فی الشامیة : تحت (قوله یجب الإستبراء الخ) هو طلب البراءة من الخارج بشیٔ حتی یستیقن بزوال الأثر (إلی قوله) أما نفس الإستبراء حتی یطمئن قلبه بزوال الرشح فهو فرض و هو المراد بالوجوب ، و لذا قال الشرنبلالی : یلزم الرجل الإسبتراء حتی یزول أثر البول و یطمئن قلبه ، و قال : عبرت باللزوم لكونه أقری من الواجب لأن هذا یفوت الجواز لفوته فلا یصح له الشروع فی الوضوء حتی یطمئن بزوال الرشح . اهـ (1/244)۔
و فی الدر المختار : و شرعا ما يتوقف عليه الشيء و لا يدخل فيه (هي) ستة (طهارة بدنه) أي جسده لدخول الأطراف في الجسد دون البدن فليحفظ (من حدث) بنوعيه ، و قدمه لأنه أغلظ (و خبث) مانع كذلك (و ثوبه) وكذا ما يتحرك بحركته أو يعد حاملا له كصبي عليه نجس إن لم يستمسك بنفسه منع و إلا لا اھ (1/ 402)۔