نجاسات اور پاکی

قطرات والے کپڑے کو کیسے دھوئے جائیں

فتوی نمبر :
17908
| تاریخ :
2013-02-14
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

قطرات والے کپڑے کو کیسے دھوئے جائیں

میں جب بھی واش روم سے باہر آتا ہوں تو مجھے کچھ قطرے آتے ہیں ، میں جتنی بھی کوشش کرلوں لیکن ان کو روک نہیں سکتا ، اب میں نماز انہیں کپڑوں میں پڑھ لیتا ہوں ، تو کیا میری نماز پر کوئی فرق تو نہیں پڑتا ؟ اگر پڑتا ہے تو مجھے برائے مہربانی اس کا کوئی حل بتلادیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کو چاہیۓ کہ پیشاب سے فارغ ہو کر قطروں کے بند ہونے کا انتظار اور اچھی طرح اطمینان کرلے کہ اب قطرے نہیں آئیں گے ، اس کے بعد کپڑوں کا متعلقہ مقام و حصہ دھو کر پھر وضو کرکے نما زپڑھنے کا اہتمام چاہیۓ ۔

مأخَذُ الفَتوی

و فی الشامیة : تحت (قوله یجب الإستبراء الخ) هو طلب البراءة من الخارج بشیٔ حتی یستیقن بزوال الأثر (إلی قوله) أما نفس الإستبراء حتی یطمئن قلبه بزوال الرشح فهو فرض و هو المراد بالوجوب ، و لذا قال الشرنبلالی : یلزم الرجل الإسبتراء حتی یزول أثر البول و یطمئن قلبه ، و قال : عبرت باللزوم لكونه أقری من الواجب لأن هذا یفوت الجواز لفوته فلا یصح له الشروع فی الوضوء حتی یطمئن بزوال الرشح . اهـ (1/244)۔
و فی الدر المختار : و شرعا ما يتوقف عليه الشيء و لا يدخل فيه (هي) ستة (طهارة بدنه) أي جسده لدخول الأطراف في الجسد دون البدن فليحفظ (من حدث) بنوعيه ، و قدمه لأنه أغلظ (و خبث) مانع كذلك (و ثوبه) وكذا ما يتحرك بحركته أو يعد حاملا له كصبي عليه نجس إن لم يستمسك بنفسه منع و إلا لا اھ (1/ 402)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 17908کی تصدیق کریں
0     498
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات