ہم ایک فلاحی ادارہ چلا رہے ہیں ، اور ہمارے پاس زکوٰۃ کی کچھ رقم موجود ہے، اور ہم ایک خیراتی سکول بھی چلاتے ہیں ، میں جاننا چاہوں گا، کہ کیا ہم زکوٰۃ کی رقم سکول کی تعمیر کرنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں یا سکول کی بلڈنگ کی مرمت ، عملہ کی تنخواہ، اور اسکول کے مختلف قسم کے جلسوں میں استعمال کرسکتے ہیں ، براہ کرم رہنمائی فرمائیں کہ ہم اس رقم کو کن مقاصد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں ؟
زکوٰۃ یا دیگر صدقات واجبہ کی رقوم کا بلا تملیک مذکور مصارف میں خرچ کرنا شرعاً جائز نہیں ، اس سے احتراز اور ان مصارف میں نفلی صدقات وعطیات کی رقوم خرچ کرنا لازم ہے۔
کما فی الدرالمختار: (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه) الخ (2/344)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله: تمليكا) فلا يكفي فيها الإطعام إلا بطريق التمليك ولو أطعمه عنده ناويا الزكاة لا تكفي (الی قولہ) (قوله: نحو مسجد) كبناء القناطر والسقايات وإصلاح الطرقات وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه زيلعي الخ (2/344)۔
رفاہی ادارہ "چیرٹی رائٹ آف پاکستان" میں رقمِ زکوۃ کے استعمال کی مختلف صورتوں کے احکام
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 1