محترم مفتی صاحب! اگر میں اپنی قضاءِعمری پڑھ رہا ہوں ، تو ظہر کی ۴ رکعات سننِ مؤکدہ کی جگہ ، ظہر کی قضاء نماز پڑھ سکتا ہوں؟ اس لۓ کہ میں ایک ملازم ہوں کہ ایک ہی وقت کے اندر کئی نمازیں پڑھنے کی فرصت نہیں ہوتی۔
بلاوجہِ شرعی سنتِ مؤکدہ کا ترک کرنا قطعاً جائز نہیں ، بلکہ گناہ کی بات ہے، بلکہ اس صورت میں سائل کو چاہیۓ کہ وہ رات یا دوسرے کسی وقت میں ان نمازوں کو پورا کرنے کی کوشش کرے۔
فی حاشية ابن عابدين : و أما النفل فقال في المضمرات : الاشتغال بقضاء الفوائت أولى و أهم من النوافل إلا سنن المفروضة و صلاة الضحى و صلاة التسبيح و الصلاة التي رويت فيها الأخبار . اھ(2/ 74)۔
و فی التاتارخانیة : الاشتغال بقضاء الفوائت أولى و أهم من النوافل إلا السنن المعروفة اھ (۱/ ۷۷۰)۔