مباحات

انگوٹھی کے طور پر مخصوص پتھر پہننے کا حکم

فتوی نمبر :
17188
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

انگوٹھی کے طور پر مخصوص پتھر پہننے کا حکم

میرے والد کی وراثت میں کچھ پتھر ملے ہیں،کیا میں انہیں پہن سکتا ہوں؟کوئی بھی شخص کوئی سابھی پتھر پہن سکتا ہے یا اس کےلیے تاریخ پیدائش یا ستارہ وغیرہ معلوم کرنا پڑتا ہے،کیوں کہ مجھے کسی نے کہا تھا کہ کسی کا پتھر نہیں پہننا چاہیے،اگر آپ کو راس نہ آیا تو بہت نقصان ہوگا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

پتھر پہننے سے سائل کی مراد اگرپتھر جَڑی ہوئی انگوٹھی ہو تو واضح ہو کہ انگوٹھی کے جواز وعدمِ جواز کا مدار اس کے حلقے پر ہےنہ کہ اس میں لگے ہوئےپتھر وغیرہ پر،لہذا مذکور انگوٹھی کا حلقہ اگر ساڑھے چار ماشہ چاندی یا اس سے کم وزن کاہو اور سائل کاپتھروں سے متعلق مافوق الاسباب تاثیر کا عقیدہ بھی نہ ہوتوایسی صورت میں مذکور پتھر یا کسی بھی پتھر جَڑی ہوئی چاندی کی انگوٹھی کے پہننے کی شرعاً گنجائش ہے،اور اس کےلیے تاریخ پیدائش یا ستارہ وغیرہ معلوم کرنا بھی شرعاً ضروری نہیں، تاہم یہ ہوسکتا ہے کہ بعض قیمتی پتھروں میں قدرتی تاثیر ہوتی ہو،جیسے دواؤں میں تاثیر ہوتی ہے،بغرضِ علاج اس کی ممکنہ تاثیر مسلّم ہے،جس کو ماہرینِ طب سے معلوم کرکے اس کے مطابق اس کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی صحيح مسلم (2/ 925)
250 - (1270) حدثنا خلف بن هشام، والمقدمي، وأبو كامل، وقتيبة بن سعيد، كلهم عن حماد، قال خلف: حدثنا حماد بن زيد، عن عاصم الأحول، عن عبد الله بن سرجس، قال: رأيت الأصلع يعني عمر بن الخطاب يقبل الحجر ويقول: «والله، إني لأقبلك، وإني أعلم أنك حجر، وأنك لا تضر ولا تنفع، ولولا أني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم قبلك ما قبلتك» وفي رواية المقدمي وأبي كامل رأيت الأصيلع.
وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 358)
(ولا يتحلى) الرجل (بذهب وفضة) مطلقا (إلا بخاتم ومنطقة وحلية سيف منها) أي الفضة . . (ولا يتختم) إلا بالفضة لحصول الاستغناء بها فيحرم (بغيرها كحجر وذهب وحديد وصفر) . . (والعبرة بالحلقة) من الفضة (لا بالفص) فيجوز من حجر وعقيق وياقوت وغيرها . . ولا يزيده على مثقال.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 17188کی تصدیق کریں
0     868
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات