(۱) زخم پر پٹی باندھی جاتی ہے، پوچھنا یہ ہے کہ کوئی زخم اعضائے وضو پر ہو تو کیا صرف خون روکنے کے لیے پٹی وغیرہ باندھنا اور اس پر مسح کرنا جائز ہے؟ جبکہ پٹی باندھنے کا مقصد صرف خون روکنا ہے، جبکہ پانی لگنے سے خون نکلتا ہو۔
(۲) زخم پر اگر پٹی باندھ لی جائے جس کے بعد اگر پٹی کے اندر ہی اندر خون بہے پٹی سے باہر نہ نکلے اور نظر نہ آئے تو اس صورت میں وضو باقی رہے گا یا نہیں؟ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ پٹی کے اندر جتنا بھی خون نکلے پٹی سے باہر نہیں نکلنا چاہیے وضو باقی رہے گا، اور بعض حضرات کا کہنا ہے کہ اگر خون اپنی جگہ سے بہہ پڑا اگرچہ پٹی کے اندر ہو یا اتنا زیادہ نکلا کہ اگر پٹی نہ ہوتی تو بہہ پڑتا اس صورت میں وضو ٹوٹ جائے گا۔
(۱) جی ہاں! ایسی صورت میں زخم پر پٹی کرکے اس پر مسح کرنے کی گنجائش ہے، پھر جیسے ہی پٹی کا کھولنا اور پانی لگنا نقصان نہ دے تو اس کا کھولنا لازم ہوگا۔
(۲) اگر یہ زخم اتنا گہرا یا رَگ کا ہو جس سے خون مسلسل نکل رہا ہو اور اس پر پٹی باندھ دی جائے تو ایسے شخص کو ہر وقتِ نماز کے لیے وضو کرنا لازم ہوگا، اِلّا یہ کہ ابتداءً خون نکلنے کے بعد رُک جائے تو اس کے بعد اگرچہ وہ پٹی کے اندر موجود ہو وہ ناقضِ وضو شمار نہیں ہوگا، بلکہ دیگر نواقض وضو ظاہر ہونے سے اس کا وضو فاسد ہوجائے گا۔
فی الشامیة: فان ضره الحل والغسل مسح الكل بتعًا والا فلا. بل یغسل ماحول الجراحة ویمسح علیها لا علی الخرقة. (ج۱، ص۲۸۰)
وفی الشامیة: أقول وعلیه فما یخرج من الجرح الذی ینز دائما ولیس فیه قوة السیلان ولكنه اذا ترك یتقوی باجتماعه ویسیل عن محله فاذا انشفه او ربطه بخرقة وصار كلما خرج منه شیء تشربته الخرقة ینظر. ان كان ما تشربته الخرقة فی ذلك المجلس شیئًا فشیئًا بحیث لو ترك واجتمع أسال بنفسه نقض والإ، لا. (ج۱، ص۱۳۵)