کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
نماز پڑھنے کا سب سے بہتر وقت کون سا ہے؟ شروع وقت میں نماز پڑھنا افضل ہے یا آخر وقت میں؟
احناف کے نزدیک ہر نماز کے لیے مستحب وقت مختلف ہے ، اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ نماز فجر طلوع فجر کے بعد اتنی تاخیر سے پڑھنا کہ اچھی طرح روشنی پھیل جائے، ظہر کی نماز سردیوں میں اول میں اور گرمیوں میں قدرے تاخیر سے پڑھنا، عصر کی نماز سردی، گرمی میں ہر چیز کا سایہ دو مثل ہونے کے بعد پڑھنا، مغرب کی نماز غروب شمس کے بعد جلدی پڑھنا، جبکہ عشاء کی نماز ہر موسم میں رات کے پہلے تہائی حصہ تک مؤخر کر کے پڑھنا مستحب اور افضل ہے۔
ففی الفتاوى الهندية: يستحب تأخير الفجر ولا يؤخرها بحيث يقع الشك في طلوع الشمس بل يسفر بها بحيث لو ظهر فساد صلاته يمكنه أن يعيدها في الوقت بقراءة مستحبة. (إلی قوله) ويستحب تأخير الظهر في الصيف وتعجيله في الشتاء. (إلی قوله) ويستحب تأخير العصر في كل زمان ما لم تتغير الشمس (إلی قوله)ويستحب تعجيل المغرب في كل زمان. كذا في الكافي وكذا تأخير العشاء إلى ثلث الليل اھ (1/ 52)واللہ اعلم