میں سفر کی نماز کے بارے میں کچھ پوچھنا چاہتا ہوں، میری ایک دوست سے اس مسئلے میں بحث ہوئی کہ سفر میں نماز ادا کی جا سکتی ہے یا نہیں؟ میں نے اُسے کہا کہ سفر میں قبلہ کی سمت مختلف ہونے کی وجہ سے نماز نہیں پڑھنی چاہیئے لیکن اُن کی رائے یہ ہے کہ نماز پڑھنی چاہیئے ، انہوں نے حوالے کے طور پر ایک حدیثِ مبارک پیش کی کہ حضورﷺ نے اونٹ پر سوار ہونے کی حالت میں نماز پڑھی۔ برائے مہربانی وضاحت فرمائیں۔
سفر میں بھی سمتِ قبلہ معلوم کر کے نماز پڑھنا لازم ہے , سرے سے نماز نہ پڑھنا یا سمتِ قبلہ معلوم کیے بغیر نماز پڑھنا جہالت اور گناہ ہے، اس سے احتراز ضروری ہے، لہٰذا آپ کے دوست کی رائے درست ہے۔
ففی الفتاوى الهندية: لا يجوز لأحد أداء فريضة ولا نافلة ولا سجدة تلاوة ولا صلاة جنازة إلا متوجها إلى القبلة. كذا في السراج الوهاج. (1/ 63)