احکام نماز

ا امام کے لیے نیت کا ضروری ہونا - نمازی کے سامنے سے گزرنے کی حد -فرائض کے بعد اوراد و وظائف کا طریقہ

فتوی نمبر :
16361
| تاریخ :
2012-09-25
عبادات / نماز / احکام نماز

ا امام کے لیے نیت کا ضروری ہونا - نمازی کے سامنے سے گزرنے کی حد -فرائض کے بعد اوراد و وظائف کا طریقہ

محترم مفتی صاحب ! سلامِ مسنون
نماز کے متعلق چند فتاویٰ آپ سے درکار ہیں :
۱۔ آیا بلوغت کے بعد چھوٹی ہوئی نمازیں قضاءِ عمری کے طور سے ادا کرنا ضروری ہے؟
۲۔ اکثر امام صاحبان تکبیر کے فوراً بعد بغیر نیت کے نماز پڑھانا شروع کر دیتے ہیں، کیا امام کے لئے نیت کرنا ضروری نہیں؟
۳۔ کچھ لوگ فرض نماز کے بعد وظیفہ پڑھتے ہیں اور بعد میں دعا مانگتے ہیں، آیا یہ عمل فرض نماز کے فوراً بعد کرنا چاہیئے یا سنتیں اور وتر پڑھنے کے بعد بھی ہو سکتا ہے؟
۴۔ کسی نمازی کے سامنے سے گزرنے کے لئے کتنا فاصلہ ہونا چاہیئے ؟ حرم شریف میں لوگ بالکل سامنے سے گزر جاتے ہیں جو ایک عام عمل ہے ,حنفی مسلک کے مطابق فتاویٰ کی آپ سے گزارش ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۱۔ جی ہاں! وہ نمازیں جو بلوغت کے بعد پڑھنے سے رہ گئی ہوں ، اُن کا قضاء کرنا فرض ہے ، اگر بہت زیادہ نمازیں قضاء ہوئی ہوں اور صحیح تعداد بھی معلوم نہ ہو تو غالب اندازہ کے مطابق جتنی نمازیں یاد ہوں تو ان کا پڑھنا لازم ہے۔
۲۔ نیت دل کے ارادہ اور قصد کا نام ہے اور یہ امام کے لئے بھی ضروری ہے ، اس لئے اگر نماز شروع کرتے وقت دل حاضر ہو اور معلوم ہو کہ فلاں وقت کی نماز پڑھ رہا ہوں تو اتنا استحضار بھی کافی ہے۔
۳۔ دونوں صورتیں شرعاً جائز ہیں ، لیکن جن نمازوں کے بعد سنتیں ہوتی ہیں، ان کے بعد نہ مانگے تاکہ سنتوں میں تاخیر لازم نہ آئے۔
۴۔ اگر اتنی چھوٹی مسجد یا کمرے یا صحن میں نماز پڑھ رہا ہو کہ اس کا کل رقبہ ایک ہزار چھ سو (۱۶۰۰) ہاتھ، ۳۳۴.۴۵۱ مربع میٹر سے کم ہو تو نمازی کے سامنے سے گزرنا مطلقاً ناجائز ہے خواہ قریب سے گزرے یا دور سے ، بہرحال گناہ ہے، البتہ اگر کھلی فضاء میں یا 451•334 مربع میٹر یا اس سے بڑی مسجد یا بڑے کمرے میں یا بڑے صحن میں نماز پڑھ رہا ہے تو سجدے کی جگہ پر نظر جمانے سے آگے جہاں تک بالتتبع نظر پہنچتی ہو وہاں تک گزرنا جائز نہیں ہے، اس سے ہٹ کر گزرنا جائز ہے اور اس کا ندازہ لگایا گیا ہے کہ سجدے کی جگہ سے ایک صف کے قریب ہو ،لہٰذا نمازی کے موضعِ قیام سے دو صف کی مقدار (تقریباً آٹھ فٹ، ۲.۴۴ میٹر) چھوڑ کر گزرنا جائز ہے۔ (ماخوذ از احسن الفتاویٰ(۳/۴۰۹)-
جبکہ حرم شریف میں حرج کی وجہ سے بغیر کسی حد کے بغیر گزرنا بھی جائز ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی صحيح البخاري : عن أنس بن مالك ، عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : " من نسي صلاة فليصل إذا ذكرها ، لا كفارة لها إلا ذلك (1/ 122)-
و فی سنن النسائي : عن أنس قال : سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الرجل يرقد عن الصلاة أو يغفل عنها قال : «كفارتها أن يصليها إذا ذكرها» اھ (1/ 293)-
و فی البحر الرائق : فالأصل فيه أن كل صلاة فاتت عن الوقت بعد ثبوت وجوبها فيه فإنه يلزم قضاؤها سواء تركها عمدا أو سهوا أو بسبب نوم و سواءكانت الفوائت كثيرة أو قليلة (إلی قوله) ثم ليس للقضاء وقت معين بل جميع أوقات العمر وقت له إلا ثلاثة اوقات , وقت طلوع الشمس و وقت الزوال و وقت الغروب فإنه لا تجوز الصلاة في هذه الأوقات اھ (۲/ ۸۶)-
و فی الدر المختار : (و) الخامس (النية) بالإجماع (و هي الإرادة) (إلی قوله) (لا) مطلق (العلم) في الأصح ، (إلی قوله) (و المعتبر فيها عمل القلب اللازم للإرادة) فلا عبرة للذكر باللسان إن خالف القلب لأنه كلام لا نية إلا إذا عجز عن إحضاره لهموم أصابته فيكفيه اللسان مجتبى (و هو) أي عمل القلب (أن يعلم) عند الإرادة (بداهة) بلا تأمل (أي صلاة يصلي) (إلی قوله) (و التلفظ) عند الإرادة (بها مستحب) هو المختار اھ (1/ 414)-
و فی الفتاوى الهندية : النية إرادة الدخول في الصلاة و الشرط أن يعلم بقلبه أي صلاة يصلي و أدناها ما لو سئل لأمكنه أن يجيب على البديهة و إن لم يقدر على أن يجيب إلا بتأمل لم تجز صلاته و لا عبرة للذكر باللسان فإن فعله لتجتمع عزيمة قلبه فهو حسن كذا في الكافي . (1/ 65)-
و فی الفقه الإسلامي و أدلته : يسن ذكر الله و الدعاء المأثور عقب الصلاة ، إما بعد الفريضة مباشرة إذا لم يكن لها سنة بعدية كصلاة الفجر و صلاة العصر ، و إما بعد الانتهاء من السنة البعدية كصلاة الظهر و المغرب و العشاء اھ (2/ 991)-
و فی الدر المختار : و يكره تأخير السنة إلا بقدر اللهم أنت السلام إلخ . قال الحلواني : لا بأس بالفصل بالأوراد و اختاره الكمال . قال الحلبي : إن أريد بالكراهة التنزيهية ارتفع الخلاف قلت : و في حفظي حمله على القليلة ؛ و يستحب أن يستغفر ثلاثا و يقرأ آية الكرسي و المعوذات و يسبح و يحمد و يكبر ثلاثا و ثلاثين ؛ و يهلل تمام المائة و يدعو و يختم بسبحان ربك اھ (1/ 530)-
و فی الفقه الإسلامي و أدلته : قال الحنفية: إ ن كان يصلي في الصحراء أو في مسجد كبير ، فيحرم المرور في الأصح بين يديه من موضع قدمه إلى موضع سجوده . و إن كان يصلي في بيت أو مسجد صغير (و هو ما كان أقل من أربعين ذراعاً على المختار، فإنه يحرم المرور من موضع قدميه إلى حائط القبلة ؛ لأنه كبقعة واحدة ، إن لم يكن له سترة اھ (2/ 949)-
و فیه أیضاً : اتفق الفقهاء على أنه يجوز المرور بين يدي المصلي للطائف بالبيت أو داخل الكعبة أوخلف مقام إبراهيم عليه السلام ، و إن وجدت سترة ، و أضاف الحنابلة أنه لا يحرم المرور بين يدي المصلي في مكة كلها و حرمها اھ (2/ 948)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
ہدایت اللہ ولی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 16361کی تصدیق کریں
0     661
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات