میں فورٹ مکری کنیڈا کی طرف سے یہ سوال پوچھنا چاہتا ہوں، یہاں نمازوں کی اوقات درج ذیل ہے:
مغرب ۱۰:۲۰ پی ایم، عشاء ۱۱:۴۸ پی ایم، فجر ۳:۱۳ سے ۴:۴۱ اے ایم کے درمیان ہے۔ دفتر جانے والے لوگوں کے لیے عشاء اور فجر کے درمیان سونا اور فجر کو وقت پر پڑھنا بہت مشکل ہے اور یہ دن میں کام وغیرہ کو بھی مشکل بنانے کا باعث ہے، تو کیا ایسی صورت میں ہم مغرب کے ساتھ عشاء کو پڑھ سکتے ہیں ،تاکہ فجر کو وقت پر پڑھ سکے اور قضاء ہونےسے بچے؟
اس عذر کی وجہ سے نمازِ مغرب اور عشاء ایک وقت میں پڑھنا تو جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے، البتہ شدید مجبوری کے تحت جمع صوری کی اجازت ممکن ہے، جس کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ مغرب کی نماز کو اپنے آخری وقت میں اور عشاء اپنے اول وقت میں پڑھی جائے۔
ففی الدر المختار: (ولا جمع بين فرضين في وقت بعذر) سفر ومطر خلافا للشافعي وما رواه محمول على الجمع فعلا لا وقتا اھ (1/ 381)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله: محمول إلخ) أي ما رواه مما يدل على التأخير محمول على الجمع فعلا لا وقتا: أي فعل الأولى في آخر وقتها والثانية في أول وقتها اھ (1/ 382) واللہ اعلم