مباحات

کریک سوفٹ وئیر استعمال کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
16262
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

کریک سوفٹ وئیر استعمال کرنے کا حکم

میرا سوال یہ ہے کہ چوری کے سوفٹ ویئر استعمال کرنا حلال ہیں یا حرام ؟ چوری کے سوفٹ ویئر سے میرا مطلب یہ ہے کہ ایسے سوفٹ وئیر ہوں جنہیں ان کے بنانے والے یا مالک سے نہ خریدا گیا ہو، بلکہ کریک کیا گیا ہو، یہ بات بھی معلوم ہو کہ اکثریت ایسے ہی کر یک سوفٹ وئیر استعمال کرتی ہے کیونکہ ان سوفٹ ویئر کو خریدن ا تقریباً ناممکن ہے مہنگے ہونے کی وجہ سے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر چہ ابتدائی طور پر شرعا اس میں حرج نہیں ،تاہم جب " کاپی رائٹ “ باقاعدہ ایک مسلم قانون حیثیت اختیار کر گیا ہے اور اس کا لحاظ کئی ایک غیر شرعی امور کے ارتکاب کے لیے سد باب بھی ہے اس لئے "کاپی رائٹ " قانون کے تحت ایسی کتب اور سی ڈیز وغیرہ کی نقل بنانا قانو نا جرم اور ممنوع ہے، جنہوں نے اس کی کاپی کی صراحتہ ممانعت لکھ دی ہو۔ لہذا اس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

و في الفتاوى الهندية: فكل عين قائمة يغلب على ظنه أنهم أخذوها من الغير بالظلم وباعوها في السوق فإنه لا ينبغي أن يشتري ذلك وإن تداولتها الأيدي اھ (5/ 364) والله أعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 16262کی تصدیق کریں
0     9
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات