مباحات

آئی وی ایف اور آئی یو آئی استعمال کرنے کا شرعی حکم

فتوی نمبر :
14882
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

آئی وی ایف اور آئی یو آئی استعمال کرنے کا شرعی حکم

میں حاملہ ہونے کے لئے تین سال سے دعا، نماز اور وظیفہ کر رہی ہوں ،لیکن کوئی افاقہ نہ ہوا میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ آئی وی ایف اور آئی یو آئی استعمال کرنا اسلام میں جائز ہے یا نہیں؟ پلیز مجھے کچھ وظیفہ دیا جائے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ آئی ، یو ، آئی اور آئی ، وی ، ایف اگر شوہر کو طریقہ سکھا کر اسی کے ذریعہ رحم میں رکھوایا جائے اور اس طرح تولید عمل میں آئے یا بامر مجبوری کوئی لیڈی ڈاکٹر یہ عمل کرے کہ شوہر کا مادہ تولید بیوی کے رحم میں رکھے تو یہ صورت جائز اور درست ہے اس کے علاوہ جتنی صورتیں ہیں وہ غیر فطری اور غیر شرعی ہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: التلقيح الصناعي: هو استدخال المني لرحم المرأة بدون جماع. فإن كان بماء الرجل لزوجته، جاز شرعاً، إذ لا محذور فيه، بل قد يندب إذا كان هناك ما نع شرعي من الاتصال الجنسي. وأما إن كان بماء رجل أجنبي عن المرأة، لا زواج بينهما، فهو حرام؛ لأنه بمعنى الزنا الذي هو إلقاء ماء رجل في رحم امرأة، ليس بينهما زوجية. ويعد هذا العمل أيضا منافياً للمستوى الإنساني اھ (4/ 2649)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 14882کی تصدیق کریں
0     12
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات