نمازِ ظہر، نماز عصر سے کتنے منٹ پہلے قضاء ہوتی ہے؟
ظہر کی نماز اس وقت تک پڑھی جا سکتی ہے جب ہر چیز کا سایہ اس کے سایہ اصلی کے علاوہ دو مثل ہو جائے، جبکہ گھنٹوں اور منٹوں کا اندازہ اوقات صلاۃ کے دائمی نقشوں سے بآسانی معلوم ہو سکتا ہے، مگر پھر بھی بہتر یہ ہے کہ کسی معتمد نقشے میں دیئے گئے وقتِ عصر سے اتنی دیر پہلے ظہر کی نماز پڑھ لی جائے کہ نماز ختم ہونے کے بعد بھی کم از کم پانچ منٹ بعد عصر کا وقت داخل ہو رہا ہو، مگر اس عمل کو معمول بنانے اور ادائیگی نماز میں اتنی تأخیر کرنے سے احتراز لازم ہے کہ دوسری نماز کا وقت داخل ہونے تک تأخیر ہو۔
ففی حاشية ابن عابدين: (ووقت الظهر من زواله) أي ميل ذكاء عن كبد السماء (إلى بلوغ الظل مثليه) اھ (1/359)
وفی الفتاوى الهندية: ووقت الظهر من الزوال إلى بلوغ الظل مثليه سوى الفيء كذا في الكافي وهو الصحيح. (إلی قوله) قالوا الاحتياط أن يصلي الظهر قبل صيرورة الظل مثله ويصلي العصر حين يصير مثليه ليكون الصلاتان في وقتيهما بيقين. اھ (1/ 51)
وفی الفقه الإسلامي وأدلته: أن آخر وقت الظهر: أن يصير ظل كل شيء مِثْليْه، إلا أن هذا الوقت هو وقت العصر بالاتفاق، فتقدم الصلاة عن هذا الوقت؛ لأن الأخذ بالاحتياط في باب العبادات أولى. (1/ 665)