نماز میں موبائل پر گھنٹی آجائے تو ایک ہاتھ سے بند کرنے کا کیا حکم ہے ؟ اور دونوں ہاتھوں سے بند کرنے کا کیا حکم ہے؟ نیز کبھی رینگ ٹون (گھنٹی) ایک فلمی گانا ہوتا ہے ، اس صورت میں کیا حکم ہے؟ جواب دے کر ممنون فرمائیں۔
اولاً تو نمازی کو چاہیئے کہ نماز شروع کرنے سے پہلے اپنا موبائل بند کر دے اور اگر بھولے سے کھُلا رہ گیا ہو اور دورانِ نماز بجنے لگ جائے تو ایک ہاتھ کی مدد سے , عملِ قلیل کے ساتھ اُسے بند کرنے کی گنجائش ہے , دونوں ہاتھوں کے استعمال سے احتراز لازم ہے کیوں کہ عملِ کثیر صادر ہونے سے نماز فاسد ہونے کا اندیشہ ہے ، جبکہ نماز کے دوران چاہے کسی بھی قسم کی گھنٹی بج جائے اس سے نماز متأثر نہیں ہوتی ، مگر فلموں، گانے کی رنگ ٹونز پر مشتمل گھنٹی لگانا عام حالات میں بھی جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
فی الدر المختار : (و) يفسدها (كل عمل كثير) ليس من أعمالها و لا لإصلاحها ، و فيه أقوال خمسة أصحها (ما لا يشك) بسببه (الناظر) من بعيد (في فاعله أنه ليس فيها) اھ (1/ 624)-
و فی الفقه الإسلامي و أدلته : و أما الآلات : فيحرم في المشهور من المذاهب الأربعة (الحنفية و المالكية و الشافعية و الحنابلة) استعمال الآلات التي تطرب كالعود و الطنبور و المعزفة و الطبل و المزمار و الرباب و غيرها من ضرب الأوتار و النايات و المزامير كلها . فمن أدام استماعها ردت شهادته (إلی قوله) و استدلوا على تحريم المعازف من القرآن بقوله تعالى : ﴿و من الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله﴾ [لقمان:6/ 31] قال ابن عباس : إنها الملاهي . و بالمعقول : و هو أن هذه الآلات تطرب و تدعو إلى الصد عن ذكر الله تعالى و عن الصلاة و إلى إتلاف المال فحرمت كالخمر . (4/ 2664)-
دورانِ نماز قرأت میں کوئی ایسی غلطی سرزد ہوجائے جس سے معنی بالکل بگڑ جائے تو نماز فاسد ہوجائے گی؟
یونیکوڈ مفسدات نماز 0