السلام علیکم !
میرے کچھ سوالات ہیں: کالے جادو اور اس کے کرنے اور کروانے والے کے بارے میں ہیں سوال یہ ہے کہ کیا کالا جادو کرانے والا کافر اور مشرک ہے؟ اگر کالا جادو کرانے والا کافر ہے تو قرآن میں اس کی دلیل ہمیں کہاں سے ملتی ہے ؟
جس سحر میں شیاطین و جنات وغیرہ سے استعانت و امداد طلب کی جائے اور ان کو تصرف و موثر مانا جائے یا جن میں قرآن شریف یا دوسرے اسلامی شعائر کی توہین کی جائے یا کلمات کفریہ کہلوائے اور کفریہ افعال کروائے جائیں وہ کالا جادو کہلاتا ہے۔ اور اس کے کفر و شرک ہونے میں کوئی شبہ نہیں ۔
قال الله تعالى: {وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ } [البقرة: 102]
و في تفسير القرطبي: السادسة- من السحر ما يكون كفرا من فاعله، مثل ما يدعون من تغيير صور الناس اھ (2/ 45)
و في شرح النووي على مسلم: وقد سبق في كتاب الإيمان أن رسول الله صلى الله عليه وسلم عده من السبع الموبقات وسبق هناك شرحه ومختصر ذلك أنه قد يكون كفرا وقد لايكون كفرا بل معصيته كبيرة فإن كان فيه قول أو فعل يقتضي الكفر كفر وإلا فلا وأما تعلمه وتعليمه فحرام فإن تضمن ما يقتضي الكفر كفر وإلا فلا اھ (14/ 176) والله اعلم بالصواب