میری بھا بھی اور بھائی پر کسی نے جادو کر دیا اور وہ ایک دوسرے کو دیکھ بھی نہیں سکتے ۔ بھابھی تو ٹھیک ہے ، مگر بھائی کہتا ہے کہ وہ امی کے گھر چلی جائے اور رشتہ توڑنا چاہ رہا ہے۔ اس کا کوئی قصور نہیں، مگر بھائی کسی کی نہیں سنتا۔ از راہ کرم را ہ نمائی فرمائیں۔
بلا کسی وجہ کے محض چھوٹے موٹے اختلافات کو بنیاد بنا کر اپنی بیوی کو طلاق دینا ناپسندیدہ اور مکروہ فعل ہے اور احادیث مبارکہ میں اس پر وعیدیں وارد ہوئی ہیں اس لیے سائلہ کے بھائی کو اپنے اس طرز عمل سے احتراز چاہیے تاہم اگر واقعۃً بھائی اور بھا بھی پر کسی نے جادو کیا ہو تو کسی مستند عالم دین عامل سے علاج کروائے اس کے ساتھ ساتھ دونوں کو چاہئے کہ چار قل اور منزل پڑھنے کا بھی اہتمام کرے انشاء اللہ امید ہے کہ مذکور شکایت دور ہو جائے گی ۔
ففي سنن أبي داود؛ 2178 - حدثنا كثير بن عبيد، حدثنا محمد بن خالد، عن معرف بن واصل، عن محارب بن دثار، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أبغض الحلال إلى الله تعالى الطلاق» اھ (2/ 255) والله اعلم بالصواب