احکام نماز

رفع یدین کا حکم

فتوی نمبر :
12349
| تاریخ :
2020-10-26
عبادات / نماز / احکام نماز

رفع یدین کا حکم

حنفی مسلک سے تعلق رکھتے ہوئے کیا آپ مجھے بتاسکتے ہیں حدیث کی روشنی میں رفع یدین کے نہ کرنے کی کیا وجہ ہے، باوجود یہ کہ اس حوالہ سے بہت ساری صحیح احادیث بخاری شریف میں موجود ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اولاً یہ سمجھنا چاہیے کہ صحیح احادیث جس طرح بخاری میں پائی جاتی ہیں، اسی طرح دیگر کتب میں بھی صحیح احادیث موجود ہیں، یہ بات نہیں کہ صحیح احادیث صرف بخاری میں ہیں۔
ثانیاً یہ کہ ہر صحیح حدیث پر عمل کرنا ضروری ہے یہ بات بھی غلط ہے، بلکہ مستقل طور پر کسی عمل کو اپنانے کیلیے شرط یہ ہے کہ حدیث میں اس کا ذکر ہو اور آپ ﷺ نے اس کو سنت کے طور پر کیا ہو، صرف حدیث میں ذکر ہونااس عمل کو کرنے کیلیے کافی نہیں، ورنہ بخاری کی حدیث ہے کہ آپ ﷺ نے کھڑے ہوکر پیشاب کیا، امت میں اس حدیث پر کسی کا عمل نہیں، حالانکہ حدیث صحیح ہے اور بخاری کی ہے اور بیٹھ کر پیشاب کرنے کی حدیث ترمذی کی ہے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ رفع یدین کرنے اور نہ کرنے میں اختلاف کفر اور اسلام یا جواز و عدم جواز کا نہیں، بلکہ یہ اختلاف صرف افضلیت کا ہے اور احادیث صحیحہ میں دونوں طرح نماز پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ حضور ﷺ ابتداء میں شروع نماز کے علاوہ ہر اٹھک بیٹھک حتیٰ کہ سجدہ میں جانے اور اُٹھنے کے بعد بھی رفعِ یدین فرماتے تھے، پھر جیسے جیسے نماز میں سکون کا حکم آتا گیا تو تدریجاً رفعِ یدین بھی ترک فرمادیا، یہاں تک کہ اخیر عمر میں آپ ﷺ سے ایسی نمازیں بھی ثابت ہیں، جن میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع یدین نہیں اور بعض مواقع پر صحیح مسلم کی روایت میں آتا ہے کہ آپ سے رفع یدین کی سختی سے ممانعت بھی منقول ہے، جبکہ خود بخاری شریف میں بھی ایسی روایات موجود ہیں جن میں ترک رفعِ یدین کے ساتھ نماز کا تذکرہ ملتا ہے، اس لیے عند الاحناف نماز میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع یدین نہ کرنا ہی مسنون اور افضل ہے اور دلائل کی روشنی میں اسی عمل کو ترجیح ہے، جن احادیثِ صحیحہ، صریحہ یا جن میں رفعِ یدین نہ کرنے کا ذکر یا حکم ہے ان میں سے چند احادیث مع ترجمہ مندرجہ ذیل ہیں، نیز تفصیل کیلیے کتاب (۱) ’’رفع الیدین‘‘ حضرت حبیب اللہ ڈیرویؒ، (۲) ’’ہم نماز میں ہاتھ کیوں نہیں اُٹھاتے‘‘؟ شہید اسلام حضرت مولانا یوسف لدھیانوی، (۳) مجموعہ رسائل حضرت محمد امین اکاڑوی، (۴) تجلیات صفدر، حضرت مولانا محمد امین اکاڑویؒ، ملاحظہ فرمائیں۔
(1) ففی صحيح البخاري: عن محمد بن عمرو بن عطاء، أنه كان جالسا مع نفر من أصحاب النبي - صلى الله عليه وسلم -، فذكرنا صلاة النبي - صلى الله عليه وسلم -، فقال أبو حميد الساعدي: أنا كنت أحفظكم لصلاة رسول الله - صلى الله عليه وسلم - «رأيته إذا كبر جعل يديه حذاء منكبيه، وإذا ركع أمكن يديه من ركبتيه، ثم هصر ظهره، فإذا رفع رأسه استوى حتى يعود كل فقار مكانه، فإذا سجد وضع يديه غير مفترش ولا قابضهما، واستقبل بأطراف أصابع رجليه القبلة، فإذا جلس في الركعتين جلس على رجله اليسرى، ونصب اليمنى اھ(1/ 165)
ترجمہ: حضرت محمد بن عمرو بن عطاء سے مروی ہے کہ وہ حضور ﷺ کے بہت سے صحابہ کرام کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی ﷺ کی نماز کا تذکرہ کیا تو ابو حمید الساعدی کہنے لگے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کو تم سب سے زیادہ یاد رکھنے والا ہوں، میں نے آپؐ کو دیکھا کہ جب آپ تکبیر تحریمہ کہتے تو دونوں ہاتھ منڈوں کے برابر لے جاتےاور جب رکوع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر جمادیتے، پھر اپنی کمر مبارک جھکاکر سر اور گردن کے برابر کردیتے، پھر رکوع سے سر اُٹھاکر سیدھے کھڑے ہوجاتے حتیٰ کہ ریڑھ کی تمام ہڈیاں اپنی جگہ پر آجاتیں، اور جب سجدہ کرتے تو دونوں ہاتھ زمین پر اس طرح رکھتے کہ نہ باہوں کو بچھاتے اور نہ سمیٹ کر پہلو سے لگادیتے اور پاؤں کی انگلیوں کے سِرے قبلے کی طرف رکھتے، پھر جب دو رکعتوں پر بیٹھتے تو بائیں پاؤں پر بیٹھتے اور دایاں پاؤں کھڑ ا رکھتے۔
(2) وفی صحيح مسلم: عن جابر بن سمرة، قال: خرج علينا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال: «ما لي أراكم رافعي أيديكم كأنها أذناب خيل شمس؟ اسكنوا في الصلاة» اھ(1/ 322)
ترجمہ: حضرت جابر بن سمرۃؓ سے روایت ہے کہ جنابِ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے (جبکہ ہم دونوں نماز میں رفعِ یدین کررہے تھے) تو بڑی ناراضگی سے فرمایا کہ میں نماز میں تم کو شریر گھوڑوں کی طرح رفعِ یدین کرتے ہوئے کیوں دیکھتا ہوں، نماز میں سکون سے رہو۔
(3) وفی مسند أحمد: عن علقمة، قال: قال ابن مسعود: ألا أصلي لكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: " فصلى، فلم يرفع يديه إلا مرة " (6/ 203)
ترجمہ: حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے فرمایا کہ میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی طرح نماز پڑھ کر نہ دکھاؤں؟ چنانچہ آپ ؓ نے نماز پڑھی اور صرف ایک مرتبہ رفع یدین کیا۔
(4)عن عبد اللہ ابن مسعودؓ قال ألا اخبرکم بصلوٰۃ رسول اللہ ﷺ قال فقام فرفع یدیه اول مرۃ ثم لم یعد وفی نسخة ثم لم یرفع ۔(نسائی: ج۱، ص۱۵۸)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے فرمایا کہ میں تم کو رسول اللہ ﷺ کے نماز پڑھنے کا طریقہ نہ بتاؤں؟ پس آپ کھڑے ہوئے تو صرف پہلی دفعہ شروع نماز میں رفع یدین کی، اس کے بعد پوری نماز میں کسی جگہ رفع, یدین نہیں کی۔
(5)عن البراء بن عازبؓ قال رأیت رسول اللہ ﷺ حین قام الی الصلوٰۃ فکبر ورفع یدیه حتی ساوی بینهمااذنیخ ثم لم یعد۔ (دار قطنی: ج۱، ص۲۸۴)
ترجمہ: حضرت براء بن عازب سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا جس وقت آپ ﷺ نماز کیلیے کھڑے ہوئے پس برابر لے گئے پھر اس کے بعد رفع یدین نہیں کیا۔
(6)عن عبد العزیز بن حکیم قال رأیت ابن عمرؓ یرفع یدیہ حذو اذنیه فی اول تکبیرۃ افتتاح صلوٰہ ولم یرفعہما فیما سوی ذالک۔ (موطأ امام محمد: ص۹۰)
ترجمہ: عبد العزیز ابن حکیم سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھوں کو کانوں کے برابر تک نماز کی پہلی تکبیر کےو قت اُٹھاتے اور اس کے علاوہ کسی موقع میں نہ اُٹھاتے تھے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
منظور الہی نور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 12349کی تصدیق کریں
2     3732
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات