السلام علیکم! میں نے "نماز کی کتاب" سے نماز پڑھنے کا صحیح طریقہ پڑھا ہے، پڑھ کر مجھے کافی ساری غلطیوں کا پتہ چلا، جن میں پہلی یہ کہ دوسری رکعت میں تسمیہ پڑھے بغیر سورتِ فاتحہ پڑھنا، دوسری یہ ہےکہ بعض دفعہ تیسری اور چوتھی رکعت میں سورتِ فاتحہ کے بعد کوئی سورت بھی ملا کر پڑھ دیتا تھا۔
اب مجھے یہ جواب درکار ہے کہ آیا مجھے اپنی پچھلی تمام نمازیں قضاء پڑھنی چاہیۓ ، ان کا مجھ پر کوئی گناہ نہیں ہے؟ اگر اس کا کوئی کفارہ ہے ، تو کیا ہے؟ مجھے آپ کے جواب کا انتظار رہےگا۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور غلطیوں سے صحتِ نماز متاثر نہیں ہوتی ، اس لۓ کہ فاتحہ کے ساتھ تسمیہ کا نہ ملانا خلافِ استحباب، اور دوسری دو رکعتوں میں سورت کا ملانا مکروہِ تنزیہی ہے، اس لۓ سائل کی گذشتہ تمام نمازیں ادا ہو چکی ہیں ، اُسے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
فی الفتاوى الهندية : (ثم يأتي بالتسمية) (إلی قوله) و يأتي بها في أول كل ركعة و هو قول أبي يوسف - رحمه الله -. كذا في المحيط و في الحجة و عليه الفتوى. اھ (1/ 74)۔
و فی الدر المختار : (قراءة فاتحة الكتاب) (إلی قوله) (و ضم) أقصر (سورة) كالكوثر أو ما قام مقامها ، هو ثلاث آيات قصار (إلی قوله) (في الأوليين من الفرض) و هل يكره في الأخريين؟ المختار لا اھ (1/ 458)۔
و فی حاشية ابن عابدين : (قوله المختار لا) أي لا يكره تحريما بل تنزيها لأنه خلاف السنة . (1/ 459)۔