میں اکیاون سالہ آدمی ہوں اب میں کچھ قضاء نمازوں کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں، میری طبعیت ٹھیک نہیں ہے اور میری کمر میں درد ہوتا ہے کرسی پر نماز پڑھتا ہوں، نیز میں قضاء نماز بھی پڑھتا ہوں، جب مجھے وقت ملتا ہے ، پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ اگر میں ظہر کی نماز ادا کر رہا ہوں تو کیا میں صرف فرض نماز پڑھ سکتا ہوں اور سنت کو چھوڑ دوں اور اس کی جگہ قضاء فرض پڑھ لوں ، یا پھر ضروری ہے کہ سنن پڑھوں پھر قضاء نمازیں پڑھوں، پوچھنے کی وجہ یہ ہے کہ میرے ذمہ بہت ساری قضاء نمازیں ہیں اور میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے، کیونکہ میری کمر میں درد ہوتا ہے۔
قضاء نمازوں کی وجہ سے سننِ مؤکدہ کا ترک شرعاً نہیں، اس لۓ اس سے احتراز چاہیۓ ، البتہ سننِ غیر مؤکدہ اور دیگر نوافل کے بجائے قضاء نمازوں کی ادائیگی زیادہ بہتر ہے۔
فی حاشیة الطحطاوی : و الاشتغال بقضاء الفوائت أولیٰ و أهم من النوافل إلا السنة المعروفة و صلاة الضحیٰ و صلاة التسبیح و الصلاة التی وردت فی الأخبار فتلك بنیة النفل و غیرها بنیة القضاء (إلی قوله) و مراده بالسنة المعروفة المؤکدة اھ (ص: ۲۴۳)۔
و فی الدر المختار : (قوله و سن مؤكدا) أي استنانا مؤكدا؛ بمعنى أنه طلب طلبا مؤكدا زيادة على بقية النوافل ، و لهذا كانت السنة المؤكدة قريبة من الواجب في لحوق الإثم كما في البحر ، و يستوجب تاركها التضليل و اللوم كما في التحرير : أي على سبيل الإصرار بلا عذر كما في شرحه اھ (2/ 12)۔