میں فقہ حنفی کے مطابق عورتوں کی نماز کا مکمل حوالہ جاننا چاہتا ہوں ، میں آپ کے جلد جواب کا بہت ممنون ہوں گا ، اس لۓ کہ میری بیوی بالکل ہم مردوں کی طرح نماز پڑھتی ہے اوراس کا کہنا ہے کہ ایسی حدیث یا حوالہ نہیں ہے جو مردوں اور عورتوں کی نماز میں فرق کرتا ہو۔
واضح ہو کہ عورتوں کی نماز کا طریقہ مردوں کے طریقۂ نماز سے جدا ہونا بہت سی احادیث اور آثارِ صحابہ و تابعین سے ثابت ہے اور آج تک کسی صحابی ، تابعی ، تبعِ تابعی یا فقہاءِ امت میں سے کسی کا ایسا فتویٰ نظر نہیں آیا ، جس میں عورتوں کی نماز کو تمام امور میں مردوں کی نماز کے مطابق قرار دیا گیا ہو ، مرد و عورت کی نماز میں فرق کی احادیث ذیل میں ملاحظہ ہو :
ففی صحیح البخاری : عن محمد بن المنكدر قال رأيت جابراً يصلي في ثوب واحد و قال رأيت صلی اللہ علیه و سلم یصلی فی ثوبٍ اھ (۱ / ٥١ ) ۔
ترجمہ : محمد بن المنکدر روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابرؓ کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور آپ نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ۔
اس حدیث سے واضح ہے کہ مرد کی نماز ایک کپڑے میں بھی ہو جاتی ہے ، جبکہ عورت کا ایک کپڑے میں نماز پڑھنا جائز نہیں ۔
و فی سنن أبي داود : عن محمد بن زيد بن قنفذ ، عن أمه ، أنها سألت أم سلمة ماذا تصلي فيه المرأة من الثياب فقالت : «تصلي في الخمار و الدرع السابغ الذي يغيب ظهور قدميها» (1/ 173)۔
ترجمہ: محمد بن قنفذ اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کی والدہ نے حضرت ام سلمہؓ سے عرض کیا کہ عورت کتنے کپڑوں میں نماز پڑھے گی ؟ فرمایا کہ دوپٹہ اور ایسی قمیص جو ان کے قدموں کو چھپا دے ۔
و فی سنن أبي داود : محمد بن المثنى ، حدثنا حجاج بن منهال ، حدثنا حماد ، عن قتادة ، عن محمد بن سيرين ، عن صفية بنت الحارث ، عن عائشة ، عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه، قال : «لا يقبل الله صلاة حائض إلا بخمار» اھ(1/ 173)۔
ترجمہ : حضرت عائشہ ، نبی ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کسی بالغہ عورت کی نماز بغیر دوپٹہ کے قبول نہیں فرماتا ۔
و في مصنف ابن أبي شيبة : حدثنا هشيم ، قال : أنا شيخ لنا , قال : سمعت عطاء ، سئل عن المرأة : كيف ترفع يديها في الصلاة ؟ قال : «حذو ثدييها»(1/ 216)۔
ترجمہ: ہشیم نے ہمیں حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں ہمارے شیخ نے خبر دی کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے عطاء سے سنا کہ ان سے عورت کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ نماز میں اپنے ہاتھوں کو کہاں تک اُٹھائے ؟ فرمایا ! اپنے سینے کے برابر تک ۔
و فيه ايضاً : حدثنا أبو بكر قال : نا أبو الأحوص ، عن مغيرة ، عن إبراهيم ، قال : «إذا سجدت المرأة فلتضم فخذيها ، و لتضع بطنها عليهما»(1/ 242)۔
ترجمہ : ابراہیم سے روایت ہے انہوں نے فرمایا ! عورت جب سجدہ کرے تو اسے چاہیۓ کہ اپنے رانوں کو ملائے اور پیٹ کو اس کے اوپر رکھے ۔
و فيه ايضاً : حدثنا أبو بكر قال : نا وكيع ، عن سفيان ، عن منصور ، عن إبراهيم ، قال : «إذا سجدت المرأة فلتلزق بطنها بفخذيها ، و لا ترفع عجيزتها ، و لا تجافي كما يجافي الرجل» (1/ 242)۔
ترجمہ : ابراہیم سے روایت ہے انہوں نے فرمایا ! جب عورت سجدہ کرے تو اسے چاہیۓ کہ اپنے پیٹ کو اپنی رانوں کے ساتھ چمٹائے اور اپنی سر ین کو نہ اٹھائے اور اپنے بازؤوں کو کھلا نہ ر کھے جیسا کہ مرد رکھتا ہے ۔
و في اعلاء السنن : عن وائل بن حجر قال: قال رسول الله ﷺ (يابن حجر اذاصلیت فاجعل يديك حذاء اذنيك و المرأة تجعل يديها حذاء ثديها ) الخ (٢ / ١٥٦) ۔
ترجمہ : وائل بن حجر روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : اے ابن حجر ! جب تم نماز شروع کرو تو اپنے ہاتھوں کو اپنے کانوں کے برابر رکھو ، اور عورت اپنے ہاتھوں کو اپنے سینے کے برابر میں رکھے .
و فی السنن الكبرى للبيهقي : عن يزيد بن أبي حبيب ، أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مر على امرأتين تصليان فقال : "إذا سجدتما فضما بعض اللحم إلى الأرض فإن المرأة ليست في ذلك كالرجل" (2/ 315)۔
ترجمہ : یزید بن حبیب سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ دو ایسی عورتوں کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہی تھیں تو حضور ﷺ نے فرمایا :جب تم سجدہ کرو تو اپنے جسم کے بعض حصے زمین سے ملائے رکھو ، کیونکہ سجدہ ( کے معاملہ) میں عورت مرد کی طرح نہیں ہے .
و فيه ایضاً : عن الحارث قال : قال علي رضي الله عنه "إذا سجدت المرأة فلتضم فخذيها" (2/ 314)۔
ترجمہ : حارث ، حضرت علی سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب عورت سجدہ کرے تو اسے چاہیۓ کہ وہ سکھڑے اور اپنی رانوں کو ملائے رکھے ۔
و فی السنن الكبرى للبيهقي : عن عبد الله بن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : "إذا جلست المرأة في الصلاة وضعت فخذها على فخذها الأخرى، و إذا سجدت ألصقت بطنها في فخذيها كأستر ما يكون لها، و إن الله تعالى ينظر إليها و يقول: يا ملائكتي أشهدكم أني قد غفرت لها" (2/ 315) ۔
ترجمہ : حضرت ابن عمر سے مرفوع روایت ہے کہ جب عورت نماز میں بیٹھ جائے تو اپنی ایک ران پر دوسری ران رکھے ، پس جب وہ سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کواپنی ران کیساتھ ملائے جتناوہ چپ سکے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھ کر ( اپنے فرشتوں سے) فرماتے ہیں کہ اے میرے فرشتوں ! میں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اس کوبخش دیا ہے۔