ہمارے ہاں یونیورسٹی میں تیرنے کا ایک تالاب ہے جس کی پیمائش (100x60) فٹ ہے، اس تالاب میں مسلمان اور کافر طلباء روز نہاتے ہیں، تالاب کا پانی 4 یا 5 دن بعد تبدیل کیا جاتا ہے، مجھے آپ سے یہ پوچھنا ہے کیا اس تالاب میں نہانا جائز ہے جس میں غیر مسلم بھی نہاتے ہیں؟ برائے مہربانی اس موضوع پر تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔ جزاک اللہ
مذکور تالاب ماء جاری کے حکم میں ہے اس لئے اس میں کسی مسلم و غیر مسلم کا نہانا جائز اور درست ہے۔
کما فی الھندیة: الماء الراکد اذا کان کثیراً فھو بمنزلة الجاری لا یتنجس جمیعہ بوقوع النجاسة فی طرف منہ الا أن یتغیر لونہ أو طعمہ أو ریحہ وعلٰی ھذا اتفق العلماء وبہ أخذ عامة المشائخ. (ج۱، ص۱۸)
وفی البدائع: فاتفقت الروایات عن اصحابنا أنہ یعتبر الخلوص بالتحریک وھو انہ ان کان بحال لو حرک طرف منہ یتحرک طرف الاخر فھو مما یخلص وان کان لا یتحرک فھو مما لا یخلص (الٰی قولہ) وروی عن محمدؒ) انہ قدرہ بمسجدہ فکان مسجدہ ثمانیًا وبہ أخذ محمد بن سلمة وقیل کان مسجدہ عشرًا فی عشر: وقیل مسح مسجدہ فوجد داخلہ ثمانیًا فی ثمان وخارجہ عشرًا فی عشر. (ج۱، ص۱۰)
وفی الدر: وانت خبیر بأن اعتبار العشر اضبط ولا سیما فی حق من لا رأی لہ من العوام فلذا افتی بہ المتاخرون الاعلام. (ج۱،