احکام نماز

وضوء، غسل اور نماز میں آنے والے وساوس کو ختم کرنے کاعمل

فتوی نمبر :
11222
| تاریخ :
عبادات / نماز / احکام نماز

وضوء، غسل اور نماز میں آنے والے وساوس کو ختم کرنے کاعمل

میں بہت پریشان ہوں ۔مجھے شک کی بیماری ہے، میں جب نماز پڑھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ میں فلاں آیت پڑھنا بھول گیا ہوں، ایسے ہی جب میں غسل کرتا ہوں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرے جسم کا کوئی حصہ سوکھا رہ گیا ہے ،اسی طرح وضو میں بھی ہوتا ہے، میں اس بیماری سے پریشان ہوں، پریشان ہو کر نماز بھی قضاء ہو جاتی ہے ،میں دیوبندی عقائد کا ہوں اور جماعت میں بھی جاتا ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

محض وسوسہ اور شک کی بناء پر وضو اور غسل اور نماز کو دہرانے کی ضرورت نہیں ،تاہم اگر واقعی کوئی کمی رہ جائے تو دہرانے میں بھی حرج نہیں۔ جبکہ وسوسہ کا علاج یہ ہے کہ مسنون طریقہ سے تین تین بار اعضاء وضو پر پانی بہا دیا جائے اور مزید خیال دل میں نہ لایا جائے اور اس کے ساتھ اس سلسلہ میں سائل سورۃ اعراف کی آیت کی نمبر ۲۰۰ اور ۲۰۱ کو گلاب کے پانی سے لکھ کر اس کاغذ کو چاٹ لیا کریں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ترک منکرات کریں۔ اپنے ذمہ فرائض و واجبات کی ادائیگی کی فکر کریں، اتباعِ سنت نبوی کی حتی الامکان کوشش کریں اور بکثرت تیسرے کلمہ کا ورد بھی کرتا رہے۔ ان شاء اللہ بہت جلد یہ بیماری ختم ہو جائے گی۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: يستحب للرجل أن يحتشي إن رابه الشيطان، ويجب إن كان لا ينقطع إلا به قدر ما يصلي. (1/ 150)
و فيه ايضاً: شك في بعض وضوئه أعاد ما شك في تعيينه، غسل رجله اليسرى لأنه آخر العمل. ولو علم أنه لم يغسل عضوا وشك في تعيينه غسل رجله اليسرى؛ لأنه آخر العمل. ولو أيقن بالطهارة وشك بالحدث أو بالعكس أخذ باليقين، ولو تيقنهما وشك في السابق فهو متطهر اھ (1/ 150)
وفى الفتاوى الهندية: ولو زاد على الثلاث لطمأنينة القلب عند الشك أو بنية وضوء آخر فلا بأس به هكذا في النهاية اھ (1/ 7)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): لو شك في السائل من ذكره أماء هو أم بول. إن قرب عهده بالماء أو تكرر مضى وإلا أعاده، بخلاف ما لو غلب على ظنه أنه أحدهما فتح. (1/ 151)
و في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: وقال الجمهور غير المالكية وهو الأولى: لا ينتقض الوضوء بالشك، فمن تيقن الطهارة وشك في الحدث، أو تيقن الحدث وشك في الطهارة بنى على اليقين، وهو الطهارة الأولى، والحدث في الثانية اھ (1/ 436) والله تعالى اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 11222کی تصدیق کریں
0     13
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات