السلام علیکم! بعد سلام یہ عرض ہےکہ مجھے ایک مسئلے کا حل درکار ہے ، میرا مسئلہ یہ ہے کہ مرد اور عورت کی نماز میں کیا فرق ہے ؟ زیادہ پریشانی مجھے سجدے کی ہے ، میں جب عمرہ کرنے مکہ گئی تھی ، وہاں عورتوں نے مجھے سجدے پر بہت ٹوکا ، ان کا کہنا تھا کہ پیر کے پنجے بھی زمین پر لگنے چاہیۓ ، جسم کا ہر عضو اللہ کے سامنے جھکنا چاہیۓ ، اس لۓ سجدہ ایسے کریں کہ پنجے یعنی پیر کی انگلیوں کا پچھلا حصہ زمین سے لگے ، لیکن اس صورت میں کولہے اوپر اُٹھ جاتے ہیں ، اس کے علاوہ پنجے زمین پر نہیں لگ سکے ، لہٰذا میں نے ایسے ہی کیا اور تقریباً دس سال سے میں ایسے ہی نماز ادا کرتی ہوں ، ایک عالم سے پوچھا تو اس نے کہا کہ شریعت میں دونوں طریقوں سے سجدہ جائز ہے ، لہٰذا نماز ہو جاتی ہے ، لیکن اب میں کسی کے گھر نماز پڑھتی ہوں ، تو سب لوگ ٹوک دیتے ہیں کہ آپ غلط پڑھ رہی ہیں ، کچھ مفتیانِ کرام کے حساب سے سجدہ ایسے ہی صحیح ہے ، کچھ کہتے ہیں کولہے نہیں اٹھانے چاہئیں ، نماز نہیں ہوتی ، برائے مہربانی اس مسئلہ کا حل بتا کر میری پریشانی دور کیجیے ، کون سا طریقہ صحیح ہے؟ دس سال کے عرصے میں جو نماز میں نے ادا کی، وہ خدا نخواستہ قبول نہیں ہوئی؟ اور سجدہ کیسے کرنا چاہیۓ ؟ اس کا حل بتا کر پریشانی سے نجات دلائیں۔
واضح ہو کہ جس طرح عمومی حالات میں عورت کے لۓ ستر کا حکم ہے، اسی طرح اس سے متعلق عبادات میں بھی اسی حکم کو ملحوظ رکھا گیا ہے ، جیسے مرد کے لۓ امامت ، خطابت ، اذان ، تکبیرات اور دورانِ حج ، رمل وغیرہ جیسے امور میں ، اسی طرح دورانِ نماز تکبیرِ تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھا نے ، سینے پر ہاتھ باندھنے، کھڑا ہونے ، رکوع کرنے ، تشہد کے لۓ بیٹھنے ، اور سجدہ کرتے وقت بھی اس کے ستر کو ملحوظ رکھ کر ، اسے سمٹ کر سجدہ کرنے کو نہ صرف پسند کیا گیا ہے ،بلکہ اسے عورت کے لۓ افضل و استر قرار دیا گیا ہے ، یہی وجہ ہے کہ مرد اور عورت کی نماز میں احادیثِ صحیحہ و آثارِ صحابہ و تابعین کی روشنی میں بتصریحِ فقہاء دس(۱۰)، و بقولِ بعض چھبیس (۲۶) مواقع میں فرق ہے ، منجملہ ان مواقع کے ایک ، ہیئتِ سجدہ بھی ہے، جبکہ عورتوں کے سجدہ کرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ اپنے دونوں بازوں کو زمین پر بچھائیں ، اور پیٹ کو رانوں سے ملا ئیں ، اور دونوں قدموں کو دائیں جانب نکال کر بچھائیں، ان کو کھڑا نہ رکھیں ، جبکہ اس طریقہ کے خلاف کی صورت میں نماز تو درست ہو جائیگی، لیکن ترکِ سنت کی وجہ سے مکروہ ہوگی ، جس سے احتراز کی چاہیۓ۔
و في المراسيل لأبي داود : عن يزيد بن أبي حبيب ، أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مر على امرأتين تصليان فقال : «إذا سجدتما فضما بعض اللحم إلى الأرض فإن المرأة ليست في ذلك كالرجل» اھ(ص: 118)۔
و فی كنز العمال : عن علي رضي الله عنه قال : "إذا سجدت المرأة فلتضم فخذيها" . (8/ 165)۔
و فى كنز العمال : إذا جلست المرأة في الصلاة وضعت فخذها على فخذها الأخرى فإذا سجدت ألصقت بطنها في فخذيها كأستر ما يكون لها اھ(7/ 549)۔
و في الدر المختار : (و المرأة تنخفض) فلا تبدي عضديها (و تلصق بطنها بفخذيها) لأنه أستر ، و حررنا في الخزائن أنها تخالف الرجل في خمسة و عشرين . (1/ 504)۔
و فى حاشية ابن عابدين : (قوله و حررنا في الخزائن إلخ) و ذلك حيث قال تنبيه : ذكر الزيلعي أنها تخالف الرجل في عشر ، و قد زدت أكثر من ضعفها : ترفع يديها حذاء منكبيها ، و لا تخرج يديها من كميها ، و تضع الكف على الكف تحت ثديها ، و تنحني في الركوع قليلا ، و لا تعقد و لا تفرج فيه أصابعها بل تضمها و تضع يديها على ركبتيها ، و لا تحني ركبتيها ، و تنضم في ركوعها و سجودها ، و تفترش ذراعيها ، و تتورك في التشهد و تضع فيه يديها تبلغ رؤوس أصابعها ركبتيها ، و تضم فيه أصابعها ، و إذا نابها شيء في صلاتها تصفق و لا تسبح ، و لا تؤم الرجل ، و تكره جماعتهن ، و يقف الإمام وسطهن ، و يكره حضورها الجماعة . و تؤخر مع الرجال ، و لا جمعة عليها ، لكن تنعقد بها ، و لا عيد ، و لا تكبير تشريق ، و لا يستحب أن تسفر بالفجر ، و لا تجهر في الجهرية ، بل لو قيل بالفساد بجهرها لأمكن ، بناء على أن صوتها عورة . و أفاده الحدادي أن الأمة كالحرة إلا في الرفع عند الإحرام فإنها كالرجل . اهـ . أقول : و قوله و لا تحني ركبتيها صوابه و تحني بدون "لا" كما قدمناه عن المعراج عند قول الشارح في الركوع و يسن أن يلصق كعبيه ، و قوله تبلغ رؤوس أصابعها ركبتيها مبني على القول بأن الرجل يضع يديه في التشهد على ركبتيه . و الصحيح أنهما سواء كما سنذكره ، و قوله لكن تنعقد بها ، صوابه لكن تصح منها إذ لا عبرة بالنساء و الصبيان في جماعة الجمعة و الشرط فيهم ثلاثة رجال ، و قدمنا أيضا عن المعراج عن شرح الوجيز أن الخنثى كالمرأة و حاصل ما ذكره أن المخالفة في ست و عشرين . و ذكر في البحر أنها لا تنصب أصابع القدمين كما ذكره في المجتبى ، ثم هذا كله فيما يرجع إلى الصلاة ، و إلا فالمرأة تخالف الرجل في مسائل كثيرة مذكورة في احكامات الأشباه فراجعها . (1/ 504)۔
و في اعلاء السنن : من على قال اذا سجدت المرأة فلتحتفر و لتضم فخذيها ، و عن یزید بن ابی حبیب ، أنه صلی اللہ علیه و سلم مر على امرأتين تصليان فقال اذا سجد تما فضما بعض اللحم إلى الارض فان المرأة في ذلك ليست كالرجل اھ (۳/ ۲۶)۔
و فى البحر : و ذكر الشارح ان المرأة تخالف الرجل في عشر خصال ترفع يديها الى منكبيها و تضع يمينها على شمالها تحت ثدييها و لا تجافى بطنها عن فخذیها بها و تضع یدیها على فخذیها تبلغ رؤس أصابعها ركبتيها و لا تفتح ابطيها في السجود و تجلس متوركة في التشهد و لا تفرج اصابعها في الركوع و لا تؤم الرجال و تكره جماعتهن و تقوم الامام وسطهن اھ (۱/ ۳۲۱)۔