کیا مرد اور عورت کی نماز میں کوئی فرق ہے؟ جبکہ سعودی علماء بولتے ہیں کہ اس میں کوئی فرق نہیں ہے؟
عند الاحناف نماز کے دوران تقریبا پچیس مقامات ایسے ہیں،جن میں مرد اور عورت کی نماز میں فرق پایا جاتا ہے ، جبکہ سعودی علماء مسلکاً حنبلی ہیں اور حنابلہ کے ہاں بھی مرد و عورت کی نماز میں فرق ہے، اس لۓ یہ کہنا کہ ’’سعودی علماء بولتے ہیں کہ اس میں فرق نہیں‘‘ سراسر غلط ہے ، البتہ حنابلہ اور احناف کے نزدیک نماز کے کئی ایک مقامات میں مسلکاً اختلاف پایا جاتا ہے، اس لۓ سائل کو جن مسائلِ نماز میں اختلاف محسوس ہوتا ہو تو اُسے چاہیۓ کہ حنفی المسلک ہونے کی صورت میں کسی معتمد حنفی عالم سے رابطہ کرے اور اس کے بتاۓ ہوئے طریقہ کے موافق عمل کرے۔
فی الدر المختار : (و المرأة تنخفض) فلا تبدي عضديها (و تلصق بطنها بفخذيها) لأنه أستر ، و حررنا في الخزائن أنها تخالف الرجل في خمسة و عشرين . اھ (1/ 504)۔
و فی حاشية ابن عابدين : (قوله و حررنا في الخزائن إلخ) و ذلك حيث قال تنبيه ذكر الزيلعي أنها تخالف الرجل في عشر ، و قد زدت أكثر من ضعفها : ترفع يديها حذاء منكبيها ، و لا تخرج يديها من كميها اھ (1/ 504)۔
و فی غنیة المتملی : (و) أما (المرأة) فانها (ترفع) یدیها عند التکبیر (حذاء ثدیها) (إلی قوله) لأن ذلك استر لها اھ (ص: ۳۰۰)۔
و فی حاشية ابن عابدين : مطلب العامي لا مذهب له قلت : و أيضا قالوا العامي لا مذهب له ، بل مذهبه مذهب مفتيه اھ (4/ 80)۔