احکام نماز

۱۔ سنت مؤکدہ کی تعریف (معنیٰ) کیا ہے؟

فتوی نمبر :
10955
| تاریخ :
2011-02-27
عبادات / نماز / احکام نماز

۱۔ سنت مؤکدہ کی تعریف (معنیٰ) کیا ہے؟

۱۔ سنت مؤکدہ کی تعریف (معنیٰ) کیا ہے؟
۲۔ نمازِ جمعہ مں دو رکعت نمازِ فرض کے بعد جو چار رکعات سنت اور دو رکعات سنت ادا کی جاتی ہیں، کیا وہ سنتِ مؤکدہ ہیں؟ اگر ہیں تو کسی بھی حوالہ سے ثابت کریں، حدیث، صحابہ کرام، کتاب کا نام، فتویٰ نمبر اور دوسری چیزیں۔ برائے مہربانی حوالہ دیں۔
۳۔ سنتِ غیر مؤکدہ (عصر اور عشاء) (چار رکعات غیر مؤکدہ) ادا کرنے کا طریقہ کیا ہے؟ برائے مہربانی حوالہ بھی دینا۔ یہ میری عاجزانہ درخواست ہے۔ جلدی جواب دے کر میں آپ کا ممنوں رہوں گا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۱۔۲۔ سنتِ مؤکدہ وہ طریقہ کہلاتا ہے جس کو حضورﷺ یا خلفاءِ راشدین وصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ہمیشہ کیا ہو یا کرنے کی تاکید کی ہو اور بلاعذر کبھی ترک نہ کیا ہو ، جبکہ نمازِ جمعہ کے بعد کی چھ رکعات راجح قول کے مطابق سنتِ مؤکدہ ہیں۔
۳۔ مذکور سنن غیر مؤکدہ کے پڑھنے کا وہی طریقہ ہے، جو نوافل کا ہے یعنی پہلے قعدہ میں درود و دُعا پڑھی جائی گی ، اور دوسری دو رکعات کی ابتداء بھی ثناء تعوذ و تسمیہ سے ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی حاشية ابن عابدين: (قوله: وسننه إلخ) اعلم أن المشروعات أربعة أقسام، فرض وواجب وسنة ونفل، فما كان فعله أولى من تركه مع منع الترك إن ثبت بدليل قطعي ففرض، أو بظني فواجب، وبلا منع الترك إن كان مما واظب عليه الرسول - صلى الله عليه وسلم - أو الخلفاء الراشدون من بعده فسنة، وإلا فمندوب ونفل اھ۔ (1/ 102)
ففی الدر المختار: (وفي البواقي من ذوات الأربع يصلي على النبي) - صلى الله عليه وسلم - (ويستفتح) ويتعوذ ولو نذرا لأن كل شفع صلاة (وقيل) لا يأتي في الكل وصححه في القنية اھ(2/ 16)
وفی الفتاوى الهندية: وفي الأربع قبل الظهر والجمعة وبعدها لا يصلي على النبي - صلى الله عليه وسلم - في القعدة الأولى ولا يستفتح إذا قام إلى الثالثة بخلاف سائر ذوات الأربع من النواف كذا في الزاهدي اھ(1/ 113) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شاہ نواز عباس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 10955کی تصدیق کریں
0     1316
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات