مفتی صاحب! قضاء نمازوں کی ادائیگی کب اور کیسے کی جائے؟
قضاء نماز تین مکروہ اوقات (طلوع، غروب اور زوال) کے علاوہ جب چاہے پڑھ سکتے ہیں، اور ان کی ادائیگی کا طریقہ وہی ہے جو ادا نمازوں کا ہے، صرف نیت میں فرق ہےکہ وقت ، دن کی تعیین لازم ہے مثلاً فلاں دن کی ظہر کی نماز پڑھتا ہوں ، البتہ اگر قضاء نمازوں کی تعداد چھ سے کم ہو تو پھر ترتیب ضروری ہے ورنہ نہیں۔
فی الدر المختار: كثرت الفوائت نوى أول ظهر عليه أو آخره اھ(2/ 76)۔
و فی حاشية ابن عابدين : (قوله كثرت الفوائت إلخ) مثاله : لو فاته صلاة الخميس و الجمعة و السبت فإذا قضاها لا بد من التعيين لأن فجر الخميس مثلا غير فجر الجمعة ، فإن أراد تسهيل الأمر ، يقول أول فجر مثلا ، فإنه إذا صلاه يصير ما يليه أولا أو يقول آخر فجر ، فإن ما قبله يصير آخرا ، و لا يضره عكس الترتيب لسقوطه بكثرة الفوائت.اھ(2/ 76)۔
و فی الدر المختار : و جميع أوقات العمر وقت للقضاء إلا الثلاثة المنهية اھ(2/ 66)۔
و فی حاشية ابن عابدين : تحت (قوله إلا الثلاثة المنهية) و هي الطلوع و الاستواء و الغروب اھ(2/ 66)۔