پرائز بانڈ

پرائزبانڈکا شرعی حکم

فتوی نمبر :
10354
| تاریخ :
جدید فقہی مسائل / جدید معاشیات / پرائز بانڈ

پرائزبانڈکا شرعی حکم

السلام علیکم! محترم بھائی صاحب !میں حکومت ِپاکستان کی طرف سے جاری کردہ پرائز بانڈ کے متعلق پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ حلال ہے یا حرام؟ برائے مہربانی مجھے قرآن و حدیث کی روشنی میں جمع حوالہ جات جواب دیجئے۔ جزاک اللہ!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

پہلے تو اس بات کو ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ پرائز بانڈز کی اسمیں کسی چیز کی خرید و فروخت نہیں ہوتی، بلکہ کے تحت جو رقم دی جاتی ہے، در حقیقت وہ رقم حکومت پر قرض ہوتی ہے ،اور اس چیز پر جو نفع دیا جاتا ہے وہ سود ہوتا ہے،اور اس طریقہ کار کی پوری تفصیل یہ ہے کہ حکومت ہر پرائز بانڈ والے شخص سے اس کے دیئے ہوئے قرض پر سود دینے کا معاہدہ تو نہیں کرتی، لیکن انعامی بانڈز حاصل کرنے والے تمام افراد سے بحیثیت مجموعی یہ بات بہر حال طے ہوتی ہے کہ وہ انہیں انعام ضرور تقسیم کریگی، اگر وہ ایسا نہ کرے، تو انعامی بانڈز رکھنے والا ہر فرد انعام تقسیم کرنے کا مطالبہ کر سکتا ہے ،بلکہ وہ بذریعہ عدالت بھی حکومت کو انعام کی تقسیم پر مجبور کر سکتے ہیں، چنانچہ مذکورہ بالا تفصیل سے پرائز بانڈ کی حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آگئی ہے کہ پرائز بانڈ کی رقم حکومت پر قرض ہوتی ہے جس کے لیے کوئی مدت مقرر نہیں جب چاہے لے سکتے ہیں ۔
اب یہ بھی سمجھ لیجئے کہ بانڈز رکھنے والوں کو بصورت انعام جو کچھ ملتا ہے ،وہ اسی قرض کی بناء پر ملتا ہے ،جو بحیثیت مجموعی جملہ انعامی بانڈز رکھنے والوں سے مشروط ہے ،اور قرض پر ہر قسم کا مشروط نفع احادیث اور فقہ کی روشنی میں بلاشبہ ناجائز اور سود ہے، اور اس کو وصول کرنا اور اپنے استعمال میں لانا ناجائز اور حرام ہے۔
جتنے روپے کا پرائز بانڈز ہے، اسی قدر رقم واپس لے سکتے ہیں زائد نہیں،اگر کسی نے غلطی سے پرائز بانڈز ب پر ملنے والی انعامی رقم حاصل کر لی ہو تو چونکہ وہ سود ہونے کی وجہ سے حرام ہے ( اور مال حرام کا حکم یہ ہے کہ جب اس کا مالک معلوم ہو تو اسے پہنچانا ضروری ہے ۔ اگر اصل مالک معلوم نہ ہو یا اس تک پہنچانا متعذر ہو تو اسے اصل مالک کی طرف سے بغیر بتائے بلانیت ثواب صدقہ کرنا واجب ہے) لہذا وہ رقم بلانیت ثواب صدقہ کر دی جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الدر المختار: و في الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن. (5/ 166)۔
و في حاشية ابن عابدين: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة و في الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به (5/ 166) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد شاہد عظمت عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 10354کی تصدیق کریں
0     411
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • پرائز بونڈ پر سود نہ ہونے کی تصریح کے باوجود سود کیسے؟

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • پرائز بانڈ پر ملنے والے انعام کا حکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • "صکوک مضاربہ بانڈز" میں انویسٹمنٹ کا حکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • پرائز بانڈ کا حکم-سو روپے کے نئے نوٹ کے بدلے 125 روپے لینا

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • کیا پرائز بانڈ میں سرمایہ کاری کرنا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • پرائز بانڈ زکا خریدنا حلال ہے یا حرام ؟

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • انعامی بانڈز (پرائز بانڈز) کی اسکیم سے ملنے والے پیسے کاحکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • بیرون ممالک میں انعامی بانڈز کا حکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • ہانعامی بانڈز (پرائز بانڈز) کی اسکیم کاحکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • پرائز بانڈ سے رقم خریدنا یا جیتنا جائز ہے یا نہیں؟

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • پرائز بانڈ کا شرعی حکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • انعامی بانڈز (پرائز بانڈز) کی اسکیم اور اس سے ملنے والے انعام کاحکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • پریمیم بانڈز کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • انعامی بانڈ (پرائز بانڈز) کی اسکیم کے تحت ملنے والے انعام کو اپنی ذاتی استعمال میں لانا

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • انعامی بانڈز خرید نے کا حکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • انعامی بانڈز کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • پرائز بانڈز کی خرید وفروخت کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   پرائز بانڈ 1
  • پرائز بانڈ اور اس پر ملنے والی انعامی رقم کا شرعی حکم

    یونیکوڈ   انگلش   پرائز بانڈ 0
Related Topics متعلقه موضوعات