نجاسات اور پاکی

اگر چلتاپانی پاک ہے تو پھر گٹر نالہ کا کیا حکم ہے؟

فتوی نمبر :
10316
| تاریخ :
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

اگر چلتاپانی پاک ہے تو پھر گٹر نالہ کا کیا حکم ہے؟

کیا درست ہے کہ چلتا پانی پاک ہے، قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں اگر چلتاپانی پاک ہے تو پھر گٹر نالہ کا کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جاری پانی اس وقت تک پاک ہوتاہے جب تک کہ پانی کے اوصاف ثلاثہ (رنگ، مزہ، بو) میں سے کوئی وصف گندگی کی وجہ سے تبدیل نہ ہوجائے اگر ان میں سے ایک وصف بھی تبدیل ہوگیا تو جاری پانی بھی ناپاک ہوجائے گا جبکہ گٹڑ نالہ میں مذکور اوصاف تبدیل شدہ ہوتے ہیں اس لیے باوجود جاری ہونے کے وہ ناپاک ہی کہلاتاہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الهندیة: والفتوٰی فی الماء الجاری أنه لا یتنجس مالم یتغیّر طعمه أو لونه أو ریحه من النجاسة کذا فی المضمرات. (۱/ ۱۷) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 10316کی تصدیق کریں
0     59
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات