السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ، کسی مسجد کا قبلہ سے کتنے درجے خطاء ہونا جائز ہے؟ یہاں بعض مساجد ایسی ہیں جو ۱۳ درجے تک قبلہ سے خطاء ہوئی ہیں۔
برائے مہربانی آپ جلد سے جلد اس مسئلہ کے بارے میں جواب عنایت فرمادیں ،تاکہ بہت سی مساجد اپنا قبلہ درست کر لیں۔
اگرچہ عین سمت قبلہ سے پینتالیس درجے دائیں اور اتنا ہی بائیں انحراف کی صورت میں نماز ادا ہو جاتی ہے، مگر جب کسی مسجد کا بارہ ، چودہ ڈگری انحراف واضح ہو گیا ہو ،تو اسے باقی رکھنے سے احتراز چاہیئے،پھر اگر اس کی درستگی سے تعمیرِ مسجد متاثر ہوتی ہو اور اہلِ محلہ وغیرہ اس کی وسعت نہ رکھتے ہوں ، تو ایسی صورت میں صرف صفوں کی سمت درست کر لی جائے تو بھی کافی ہے، مگر یہ کام خود سے انجام دینے کی بجائے کسی مستند عالم دین کی نگرانی میں کیا جائے، تو زیادہ بہتر ہے۔
ففی التنویر مع الدر المختار: (واستقبال القبلة فللمکی (إصابة عينها ولغيره) أي غير معاينها (إصابة جهتها) بأن يبقى شيء من سطح الوجه مسامتا للكعبة أو لهوائها اھ(1/ 427)
وفی حاشية ابن عابدين: فعلم أن الانحراف اليسير لا يضر، وهو الذي يبقى معه الوجه أو شيء من جوانبه مسامتا لعين الكعبة أو لهوائها اھ(1/ 430)واللہ اعلم