نجاسات اور پاکی

واش بیسن میں ناپاک کپڑے دھونے کا حکم

فتوی نمبر :
10116
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

واش بیسن میں ناپاک کپڑے دھونے کا حکم

(1) کیا ہم اپنے کپڑوں کو واش بیسن میں دھو سکتے ہیں؟جہاں ہم پیشاب،پاخانہ کے بعد اپنے ہاتھ بھی دھوتے ہیں؟ (2) اگر ہم کپڑوں کو واشنگ مشین میں صحیح طرح سے نہ دھوتے ہوں، اور دھونے کے بعد دھوپ میں ان کو سکھاتے ہوں ،تو آیا کپڑے پاک ہوجاتے ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(1)جی ہاں! دھو سکتے ہیں،اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔
(2) اگر کپڑے ناپاک ہوں تو محض دھوپ میں خشک ہونے سے وہ پاک نہیں ہوجاتے ،بلکہ انہیں پاک وصاف پانی کے ذریعہ باقاعدہ پاک کرنا اور تین مرتبہ نیا پانی ڈال کر اس سے نکالنے اور نچوڑنے کی ضرورت ہوتی ہےاور ایسے ناپاک کپڑوں کے لئے اس عمل کو دہرانا ضروری ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی رد المحتار: (قوله: أما لو غسل إلخ) (الیٰ قوله) أقول: لكن قد علمت أن المعتبر في تطهير النجاسة المرئية زوال عينها ولو بغسلة واحدة ولو في إجانة كما مر، فلا يشترط فيها تثليث غسل ولا عصر، وأن المعتبر غلبة الظن في تطهير غير المرئية بلا عدد على المفتى به أو مع شرط التثليث على ما مر اھ (1/ 333)۔
و فی الفتاوی الھندیة: ثوب نجس غسل في ثلاث جفان أو في واحدة ثلاثا وعصر في كل مرة طهر لجريان العادة بالغسل. هكذا فلو لم يطهر لضاق على الناس اھ(1/ 42)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 10116کی تصدیق کریں
0     659
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات