جواب تنقیح: السلام علیکم ! زن خو( ہیجڑا ) چاہے عورت یا مرد کی علامت والا ہو ،اس کے لئے اسلام میں کیا حکم ہے؟ میں نے سنا ہے ہیجڑوں کو جنت ملےگی چاہے وہ کتنا بھی گناہ کرے ، وہ اذان نہیں دے سکتے،نماز نہیں پڑھ سکتے ،ان کے پیچھے نماز نہیں ہوتی وغیرہ شریعت سے جواب کا طلب گار ہوں۔ شکریہ!
ہیجڑے میں مرد و عورت میں سے جس کے علامات موجو د ہو نگے ،وہ اُسی کے حکم میں ہو گا مثلا مردوں کی علامات پائی جاتی ہوں تو وہ تمام احکام میں مردوں کی طرح عمل کرنے کا مکلف ہے اگر عورتوں کی علامات پائی جاتی ہوں تو وہ عورت کے حکم میں ہے اس لئے وہ اسلام کے کسی حکم سے مستثنی نہیں ہے وہ اپنے عمل کے مطابق جنت یا جہنم کا مستحق ہوگا یہ بالکل غلط ہے کہ وہ ہر حال میں جنت میں داخل ہوگا اسی طرح یہ بھی غلط اور بے بنیاد بات ہے کہ وہ اذان نہیں کہہ سکتا نماز نہیں کر سکتا اگر وہ مرد ہے اور اس کے اذان دینے یا نماز پڑھانے میں کسی قسم کے فتنہ و فساد کا اندیشہ نہ ہو اور وہ علم دین پر عبور رکھنے کے ساتھ ساتھ قرآن کریم بھی اچھا پڑھتا ہو تو وہ یہ امور بجالا سکتا ہے۔
كما قال اللہ تعالى: {مَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَلَا يُجْزَى إِلَّا مِثْلَهَا وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُونَ فِيهَا بِغَيْرِ حِسَاب} [غافر: 40]
و في مشكاة المصابيح: وعن علي رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " رفع القلم عن ثلاثة: عن النائم حتى يستيقظ وعن الصبي حتى يبلغ وعن المعتوه حتى يعقل ". رواه الترمذي وأبو داود اھ (2/ 980)
و في الهداية شرح البداية: قال وإذا كان للمولود فرج وذكر فهو خنثى فإن كان يبول من الذكر فهو غلام إن كان يبول من الفرج فهو أنثى اھ (4/ 266)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): تحت (قوله أي غير الفاسق) (إلی قوله) ولو عدمت أي علة الكراهة بأن كان الأعرابي أفضل من الحضري، والعبد من الحر، وولد الزنا من ولد الرشدة، والأعمى من البصير فالحكم بالضد اهـ ونحوه في شرح الملتقى للبهنسي وشرح درر البحار اھ (1/ 560)۔