السلام علیکم جناب مفتی صاحب! میری عمر اٹھارہ سال ہے اور میں شادی کرنا چاہتا ہوں، مگر اپنے گھر والوں سے کہہ نہیں سکتا، برائے مہربانی کوئی وظیفہ بتا دیں، جس سے میرا یہ مسئلہ حل ہو جائے۔
سائل اگر بیوی کے نان ونفقہ اورسکنی کی ادائیگی پر قادر ہے، تو اسے چاہیئے کہ اپنے کسی قریبی عزیز و غیرہ کے ذریعے اپنی ضرورت کی اطلاع گھر والوں کو دیدے، اور اُن کے مشورے سے اس کام کو سرانجام دے ،اور پنج گانہ نماز کے اہتمام کے ساتھ ساتھ” {رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا} [الفرقان: ۷۴] “ کاورد بھی کرتا ر ہے، ان شاء اللہ جلد ہی کوئی اچھا راستہ نکل آئیگا، تاہم اگر شادی کیلئے کوئی رکاوٹ پیدا ہو جوفوری شادی سے مانع بنے،تواپنے جذبات کو قابو کرنے کے لئے بکثرت روزوں کا اہتمام کرے اور ساتھ ساتھ دعا بھی کرتا رہے۔
كما في مشكاة المصابيح: عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا معشر الشباب من استطاع منكم الباءة فليتزوج فإنه أغض للبصر وأحصن للفرج ومن لم يستطع فعليه بالصوم فإنه له وجاء"۔ (متفق عليه) (2/ 927)