محترم مفتی صاحب ! السلام علیکم ورحمة الله وبرکاتہ! عرض یہ ہے کہ ہمارا گاؤں ایک پهاڑی اورناہموار علاقے میں واقع ہے، جس کی وجہ سے آبادی مختلف مقامات پر پھیلی ہوئی ہے اور لوگوں کی سہولت کے لیے مختلف مقامات پر چھوٹی چھوٹی مساجد قائم ہیں۔انہی مساجد میں سے ایک مسجد ہمارے خاندان کے بعض بزرگوں نے قائم کی تھی۔ کچھ عرصہ قبل بعض حضرات نے جن کا مسجد کے قیام میں کوئی نمایاں کردار نہیں تھا، مسجد ہی میں چھوٹے بچوں کے لیے قاعدہ، ناظرہ اور ابتدائی دینی تعلیم کا ایک چھوٹا مدرسہ شروع کر دیا۔ بلاشبہ قرآن کریم اور دینی تعلیم کا اہتمام ایک اور باعثِ اجر کام ہے، لیکن اس مدرسے کی وجہ سے مسجد کے انتظام کے حوالے سے ایک عملی مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔
چو نکہ مدرسے میں بہت کم عمر بچے بھی پڑھنے آتے ہیں، اس لیے وہ بعض اوقات مسجد کے قالین اور کارپٹ وغیرہ پر گندگی کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں بار بار دھونا پڑتا ہے۔ بعض مواقع پر وضو خانے میں بھی بچوں کی طرف سے گندگی ہو جاتی ہے، جس سے مسجد کی صفائی اور پاکیزگی برقرار رکھنے میں دشواری ہیں آتی ہے۔ اس کے علاوہ نمازیوں کو بھی بعض اوقات بچوں کی آمد و رفت اور دیگر امور کی وجہ سے تکلیف اور خلل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مسجد کے بانی منتظمین میں سے بعض حضرات کا موقف یہ ہے کہ بچوں کے مدرسے کو مسجد سے باہر کسی مناسب جگہ منتقل کر دیا جائے، تاکہ مسجد میں صفائی اور پاکیزگی کا مسئلہ نہ ہو اور نمازیوں کو بھی تکلیف نہ ہو۔مزید یہ کہ مسجد کے بالکل قریب اور اردگرد زرعی زمینیں اور بعض خالی جگہیں موجود ہیں جہاں مناسب انتظام کے ساتھ بچوں کے لیے مدرسہ قائم کیا جاسکتا ہے۔ جن حضرات نے مسجد کے اندر مدرسہ قائم کرنے پر اصرار کیا ہے، ان کی اپنی ذاتی و کمر شل جائیدادیں اور زرعی اراضی بھی موجود ہیں، جہاں مدرسے کے لیے جگہ فراہم کی جاسکتی ہے، لیکن وہ مسجد ہی کے اندر مدرسہ رکھنے پر اصرار کرتے ہیں حتی کہ مسجد کی چھت پر مدرسہ منقل کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔
دوسری طرف مسجد کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اگر مسجد کے اندر بچوں کی تعلیم جاری رکھنے سے مسلسل صفائی کا مسئلہ پیدا ہو، مسجد کی پاکیزگی متاثر ہو، نمازیوں کو تکلیف ہو اور باہر متبادل جگہ بھی موجود ہو تو مدرسے کو مسجد سے باہر منتقل کرنا زیادہ مناسب ہے۔
اب اس صورت حال میں اہل مسجد کے درمیان اختلاف اور تنازع کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔لہذا درجِ ذیل امور کے بارے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:
ا - کیا مسجد میں چھوٹے بچوں کے لیے قاعدہ و ناظرہ کا مدرسہ قائم کرنا شرعا جائز ہے؟ جبکہ بچوں کی کم عمری کی وجہ سے مسجد کی صفائی اور پاکیزگی متاثر ہونے کا اندیشہ یا عملی طور پر اس کا وقوع بھی ہو رہا ہو؟
2-اگر بچوں کی وجہ سے مسجد کے قالین، کارپیٹ یا وضو خانے وغیرہ میں بار بار گندگی پیدا ہوتی ہو اور صفائی کا مسئلہ درپیش ہو تو کیا مسجد کے منتظمین کو یہ حق حاصل ہے کہ مدرسے کو مسجد سے باہر منتقل کرنے کا فیصلہ کریں ؟
3۔ اگر مسجد کے قریب مناسب خالی زمین یا ذاتی اراضی موجود ہو، تو وہاں مدرسہ قائم کیا جا سکتا ہو، اور مدرسہ قائم کرنے والے حضرات کی اپنی ذاتی جائیداد یا زمین بھی موجود ہو، تو کیا ایسی صورت میں مسجد کے اندر مدرسہ کھولنے پر اصرار کرنا درست ہے؟
4۔ کیا مسجد کی چھت پر بچوں کا مدرسہ منتقل کرنا شرعاً مناسب عمل ہے، خصوصاً جبکہ بچوں کی کم عمری، آمد و رفت، شور، صفائی اور دیگر عملی مسائل برقرار رہنے کا امکان ہو؟
5۔ اگر مسجد کے منتظمین کی رائے یہ ہو کہ مسجد کو نماز، عبادت اور دیگر مسنون امور کے لیے مخصوص رکھا جائے اور بچوں کی ابتدائی تعلیم کے لیے مسجد سے باہر الگ جگہ بنائی جائے، جبکہ مدرسہ قائم کرنے والے حضرات اس پر رضامند نہ ہوں، تو شرعاً کس فریق کی بات کو ترجیح دی جائے گی؟
6۔ کیا مسجد کے نظم و انتظام کے ذمہ دار افراد کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مسجد کے تقدّس، پاکیزگی، نمازیوں کی سہولت اور مسجد کے اصل مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے مدرسے کو کسی متبادل جگہ منتقل کر دیں؟
7۔ اگر دونوں فریق اپنے موقف پر قائم رہیں تو اس تنازع کو شرعی طور پر حل کرنے کا کیا طریقہ ہوگا؟ کیا ایسے معاملے میں مسجد کے منتظمین کی رائے معتبر ہوگی یا باہمی رضامندی سے کسی معتبر عالم دین/مفتی یا شرعی ثالث کے فیصلے کو لازم سمجھا جائے گا؟
براہ کرم قرآن و سنت، فقہ حنفی اور معتبر فقہی کتب کی روشنی میں اس مسئلے کی مکمل وضاحت فرمائیں، تاکہ اہلِ مسجد باہمی اختلاف ختم کرکے شرعی طریقے سے مناسب فیصلہ کر سکیں اور مسجد کی حرمت و تقدس بھی برقرار رہے۔
واضح ہو کہ فقهاءِ کرام -رحمہم اللہ - نے عام حالات میں اجرت لیکر مسجد میں بچوں کو تعلیم دینے کو مکروہ قرار دیا ہے، بلکہ بعض اہلِ علم سے بغیر کسی ضرورت کے مسجد میں بلا اجرت بھی بچوں کو تعلیم دینے کی کراہت منقول ہے، لہذا سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق جب مسجد کے قرب و جوار میں گاؤں کے بچوں کو تعلیم دینے کیلئے مدرسے کی ترتیب بآسانی ممکن ہوسکتی ہے، اور مسجد میں تعلیم جاری رکھنے میں مسجد کی تلویث، گندگی، آداب مسجد کی رعایت نہ رکھنے اور مسجد میں نمازیوں کی نمازوں میں خلل پڑنے کا اندیشہ ہے، بلکہ عملاً اس کا وقوع ہو رہا ہے تو گاؤں کے بعض افراد کا مسجد کی حدود میں یا مسجد کی چھت پر بچوں کی تعلیم کے سلسلے کو جاری رکھنے پر اصرار کرنا شرعاً درست نہیں، چنانچہ مسجد کی انتظامیہ، گاؤں کے سمجھدار، دین دار اور اہل علم حضرات کو چاہئیے کہ افہام و تفہیم اور خوش اسلوبی کے ساتھ مذکورہ بالا شرعی رہنمائی کی روشنی میں مسجد سے باہر کسی گھر یا کمرے وغیرہ میں مدرسے کو منتقل کرنے کا نظم بنائیں اور دونوں فریقین کو شرعی مسئلہ سمجھا کر آپس کے اختلاف اور خلفشار کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کریں، تاکہ بچوں کی تعلیم کا سلسلہ بھی موقوف نہ ہو اور مسجد کے احترام اور تقدّس کو بھی بحال رکھا جاسکے۔
لما في فتح القدير للكمال ابن الهمام (1/ 422)
ومعلم الصبيان القرآن كالكاتب إن كان لأجر لا وحسبة لا بأس به. ومنهم من فضل هذا إن كان لضرورة الحر وغيره لا يكره وإلا فيكره، وسكت عن كونه بأجر أو غيره، وينبغي حمله على ما إذا كان حسبة، فأما إن كان بأجر فلا شك في الكراهة، وعلى هذا فإذا كان حسبة ولا ضرورة يكره لأن نفس التعليم ومراجعة الأطفال لا تخلو عما يكره في المسجد، والجلوس في المسجد بغير صلاة جائز لا للمصيبة.
لما في رد المحتار: (6/ 428)
(قوله ومن علم الأطفال إلخ) الذي في القنية: أنه يأثم ولا يلزم منه الفسق، ولم ينقل عن أحد القول به، ويمكن أنه بناء على أنه بالإصرار عليه يفسق. أفاده الشارح. قلت: بل في التتارخانية عن العيون جلس معلم أو وراق في المسجد، فإن كان يعلم أو يكتب بأجر يكره إلا لضرورة وفي الخلاصة تعليم الصبيان في المسجد لا بأس به اهـ لكن استدل في القنية بقوله - عليه الصلاة والسلام - «جنبوا مساجدكم صبيانكم ومجانينكم».