السلام علیکم! میری رہائش گاہ تین مسلمان بھائیوں میں مشترک ہے، یہ جگہ کئی بند دوکانوں اور پٹرول پمپ کے ساتھ متصل ہے، جو ایک ٹھیکہ دار کی ہے، اس نے ہمیں مفت رہنے دیا اس شرط پر کہ ہر وقت یہاں کم از کم ایک شخص حفاظت کے لیے ضرور موجود رہے، مجھے معلوم نہیں کہ قریبی مسجد کہاں ہے؟ کیونکہ ہم سب ایک ساتھ باہر نہیں جا سکتے، ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم یہاں ہی جماعت سے نماز ادا کریں گے، اذان دیں گے اور باری باری امامت کرائیں گے۔ ایک مسلمان بھائی نے اعتراض کیا کہ ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جو گناہ گار ہو صحیح نہیں اور ہم میں سے کوئ ایسا نہیں جو نماز پڑھا سکتا ہو، اس لیے اس نے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا چھوڑ دی ہے اور وہ علیحدہ نماز پڑھتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس صورت میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا بہتر ہے یا علیحدہ؟
اولاً تو سائل اور اس کے متعلقین کو چاہیے کہ قریبی مسجد کے بارے میں کسی مسلم یا غیر مسلم سے پوچھ کر وہاں نماز پڑھنے کا اہتمام کرے، تاہم اگر قریب میں مسجد ہی نہ ہو یا وہاں جا کر باجماعت نماز ادا کرنے سے واقعی عذر شرعی مانع ہو تو سائل اور اس کے ساتھی رہائش گاہ میں ہی جماعت سے نماز پڑھ سکتے ہیں، جبکہ امامت کے لیے اپنے میں سے اس کو مقرر کرنا بہتر ہے جو مسائلِ نماز سے واقفیت کے ساتھ متبع سنت اور باشرع بھی ہو، ورنہ تینوں میں سے کوئی بھی امامت کرا سکتا ہے اور یہ تنہا نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔
ففی التنویر الابصار: (فتسن أو تجب على الرجال العقلاء البالغين الأحرار القادرين على الصلاة بالجماعة من غير حرج) اھ (1/ 554)