مسجد کی حد کے اندر اپنی ذات کیلئے سوال کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آیا یہ صحیح ہے کہ ’’مسجد کی حد کے اندر مانگنے والا اور دینے والا دونوں گنہگار ہیں اور مسجد کے حد کے اندر مانگنے والے کو اگر کچھ دیا تو اس کا کفارہ ستر گنا ہیں‘‘؟
مسجد کی حدود کے اندر اپنی ذات کیلئے سوال کرنا مطلقاً حرام ہے اور ایسے سائل کو دینا بھی مکروہِ تحریمی ہے تاہم اگر سوال کرنے والا واقعۃ مستحق ہو اور وہ لوگوں کی گردنوں کو بھی نہ پھلانگتا ہو تو ایسی صورت میں سائل کو دینے کی بعض حضرات نے گنجائش لکھی ہے۔
کما فی الدر المختار: ویحرم فیہ السؤال ویکرہ الإعطاء مطلقا۔ الخ (ج۱، ص۴۰۹)
وفی رد المحتار: تحت (قولہ وقیل إن تخطی) (إلی قولہ) یکرہ اعطاء سائل المسجد الا اذا لم یتخط رقاب الناس فی المختار لأن علیا تصدق بخاتمہ فی الصلوٰۃ فمدحہ اللہ تعالیٰ بقولہ (ویؤتون الزکاۃ وہم راکعون) الخ (ج۱، ص۴۰۹) واللہ اعلم