مسجد کے اوپر جو ہال ہے اس میں مسجد کا زائد سامان مثلاً پنکھے وغیرہ پڑے ہیں، بعض احباب کا مشورہ ہے کہ اس میں الماری اور لائبریری بنائی جائے جس میں صرف دینی کتابیں اور رسائل ہوں گے، کیا مسجد کے اوپر ہال کو لائبریری بنانا جائز ہے؟ اسی طرح گرمیوں میں مغرب اور عشاء ، تراویح اور سردیوں میں ظہر کی نماز مسجد کی چھت کے اوپر پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ جو جگہ مسجد کیلئے وقف کی جائے اور اس پر مسجد بن جائے وہ نیچے سے لیکر عرش تک مسجد میں رہے گی او ر نماز جیسی عبادت کیلئے مخصوص ہوگی، اس لئے مسجد کے اوپر حال کو مکمل لائبریری بنانا جائز نہیں ہے البتہ اطراف اور کناروں پر قرآن کریم اور دینی کتب رسائل کیلئے الماریاں بنائی جائیں تو اسکی گنجائش ہے۔ اسی طرح مسجد کی چھت پر جماعت کرانا اگر گرمی کی وجہ سے ہو تو یہ مکروہ ہے البتہ اگر مسجد میں نمازیوں کیلئے جگہ تنگ پڑ جائے تو پھر مسجد کی چھت پر نماز پڑھنا بلا کراہت جائز ہے۔
وفی الشامیۃ: مطالب فی الغرس فی المسجد (الی قولہ) فیہا علی من أفتی بجوازہ فیہ، أخذًا من قولہم: لو غرس شجرہ للمسجد، فثمرتہا المسجد، فرد علیہ بأنہ لا یلزم من ذلک حل الغرس إلا للعذر المذکور؛ لأن فیہ شغل ما أعدّ للصلاۃ ونحوہا وإن کان المسجد واسعا‘‘ (۱/ ۶۶۱)
وفی الہندیۃ: الصعود علی سطح کل مسجد مکروہ، ولہذا إذا شتد الحر یکرہ أن یصلوا بالجماعۃ فوقہ، إلا إذا ضاق المسجد فحینئذ لا یکرہ الصعود، علی سطحہ للضرورۃ کذا فی الغرائب (۵/ ۳۲۲) واللہ اعلم بالصواب