کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری مسجد میں ’’فضائلِ اعمال‘‘ کتاب کی تعلیم ہوتی ہے عشاء کی نماز کے بعد ، کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ حدیث کی کتاب نہیں ہے اور نہ یہ مسجد میں پڑھنا صحیح ہے، آپ اس کے متعلق وضاحت فرمائیں آیا اس کا مسجد میں پڑھنا درست ہے یا نہیں؟ اور یہ حدیث کی کتاب ہے یا نہیں؟
شیح الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مدنی رحمہ اللہ کی کتاب ’’فضائلِ اعمال‘‘ میں مختلف موضوعات پر آیاتِ قرآنیہ اور احادیثِ مبارکہ درج ہیں، جبکہ ان کے آخر میں قرآن و سنت کی روشنی میں عوام و خواص کے فائدہ کی کچھ وضاحت بھی درج ہے جسے پڑھنا اور سننا نماز و روزہ جیسی دیگر عبادات کی رغبت پیدا کرنے کیلیے مفید ہے، جس پر تجربہ بھی شاہد ہے، تاہم نماز کے بعد پڑھنے کی صورت میں دیگر نمازیوں کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔
في المبسوط للشيباني : لا يجوز رفع الصوت في المسجد و لو بالقرآن و الذكر. فقد روى المصنف عن أبي سعيد الخدرى أنه قال اعتكف رسول الله صلى الله تعالى عليه و على آله وسلم في المسجد فسمعهم يجهرون بالقراءة فكشف الستر و قال ألا إن كلكم مناج ربه فلا يؤذينّ بعضكم بعضا و لا يرفع بعضكم على بعض في القراءة. و قال صلى الله تعالى عليه و على آله وسلم جنبوا مساجدكم صبيانكم و مجانينكم و شراءكم و بيعكم و خصوماتكم و رفع أصواتكم "الحديث" اھ(4/ 88)۔