کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی ہے ،اور اب میں دوسری شادی کرنا چاہ رہا ہوں ،جب بیٹیوں کو پتہ چلا کہ میں دوسری شادی کررہا ہوں تو انہوں نے بولا کہ ہمارا خرچہ کون اٹھائے گا ،جبکہ ایک سال سے کوئی مسئلہ نہیں ہو ا،اور میری کل چھ بیٹیاں ہیں جن میں سے دو شادی شدہ ہیں ،باقی غیر شادی شدہ ہیں جن میں سے ایک اسٹریلیا میں تعلیم حاصل کررہی ہے وہ تو خرچہ نہیں مانگ رہی ہے ،لیکن اس کے علاوہ بقیہ جو ہیں وہ خرچ کا مطالبہ کررہی ہیں ،اور وہ میرے پاس آنے کو بھی بھی تیار نہیں ،اپنی ماں کے پاس رہ رہی ہیں ، اور حالانکہ وہ جاب بھی کررہی ہیں اس کے باوجود بھی وہ خرچ مانگ رہی ہیں ، ان کا مقصد یہ ہے کہ شادی نہ کروں اور میرا سارا مال وجائیداد ان کا ہی ہو ،اب آیا کہ میں ان کو خرچ دینے کا پابند ہوں یا نہیں اور سب بالغ بھی ہیں ، قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔
صورت مسئولہ میں سائل کی جو بیٹیاں شادی شدہ ہیں، ان کا نان ونفقہ چونکہ ان کے شوہروں کے ذمہ لازم ہےاسی طرح جو غیر شادی شدہ بیٹیاں صاحب استطاعت اور ان کے پاس اس قدر وسائل موجود ہوں جس سے وہ اپنے اخراجات پورے کرسکتی ہوں تو ان سب کا اپنے والد (سائل) سے اخراجات کا مطالبہ کرنا بھی شرعاً درست نہیں، البتہ سائل کی جو بیٹیاں غیر شادی شدہ ہیں اور ان کے پاس ان کے اخراجات کے لئے وسائل کا انتظام بھی موجود نہیں ان کا نان ونفقہ ان کے نکاح ہونے تک بقدر استطاعت سائل کے ذمہ لازم ہیں ۔ اگرچہ وہ بالغ ہوں اور اپنی والدہ کے پاس رہ رہی ہوں،تاہم ان اخراجات کی وجہ سے ان کا اپنے والد (سائل ) کی دوسری شادی میں رکاوٹ بننا یا ان پر غیر ضروری اخراجات کا بوجھ ڈالنا شرعاً جائز نہیں اور نہ ہی سائل ان کے غیر شرعی مطالبات پورا کرنے کا پابند ہے ۔
کما فی الفتاوى الهندية : ونفقة الإناث واجبة مطلقا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال كذا في الخلاصة.ولا يجب على الأب نفقة الذكور الكبار إلا أن الولد يكون عاجزا عن الكسب لزمانة، أو مرض (ج1،ص:565 الفصل الرابع في نفقة الأولاد ط: دارالفکر )
وفی الشامیۃ : قوله كأنثى مطلقا) أي ولو لم يكن بها زمانة تمنعها عن الكسب فمجرد الأنوثة عجز إلا إذا كان لها زوج فنفقتها عليه ما دامت زوجة وهل إذا نشزت عن طاعته تجب لها النفقة على أبيها محل تردد فتأمل، وتقدم أنه ليس للأب أن يؤجرها في عمل أو خدمة، وأنه لو كان لها كسب لا تجب عليه." (ج3،ص:614 مطلب الصغير و المكتسب نفقة كسبه لا على ابيه ط: سعید )