السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
میرا سوال یہ ہے کہ میری کزن جو کہ طلاق یافتہ ہے، اس کا نکاح کیا تھا، لیکن رخصتی نہیں ہوئی تھی ، جس شخص سے نکاح ہوا تھا وہ اب رخصتی کے لئے راضی نہیں ہے , اس شخص کا کہنا ہے کہ میں رخصتی کے لئے اب تیار نہیں ہوں، میں طلاق دینا چاہتا ہوں اب یہ آ پ سے رہنمائی چاہیئے کہ طلاق ہو جانے کے بعد میری کزن کو عدت گزارنی ہوگی یا نہیں؟ اور کیا ہم اس کا دوبارہ نکاح فوراً کر سکتے ہیں؟
سائل کی کزن اور اس کے شوہر کے درمیان اگر نکاح کے بعد ایسی تنہائی میں ملاقات کا موقع میسر نہ آیا ہو جس میں ہمبستری کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو، ( یعنی خلوتِ صحیحہ نہ ہوئی ہو )اور اس سے قبل اسے طلاق ہو جائے تو ایسی صورت میں اس کے ذمہ عدت گزارنا شرعاً لازم نہ ہوگا ، بلکہ طلاق کے فوری بعد اس کے لئے کسی دوسری جگہ نکاح کرنا جائز ہوگا ، البتہ اگر میاں بیوی کے درمیان نکاح کے بعد ہمبستری یا خلوتِ صحیحہ پائی گئی ہو تو اب طلاق کے بعد عدت گزارنا لازم ہوگا۔
کما فی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع :والثاني: الدخول أو ما هو في معناه، وهو الخلوة الصحيحة في النكاح الصحيح لعموم قوله تعالى {يا أيها الذين آمنوا إذا نكحتم المؤمنات ثم طلقتموهن من قبل أن تمسوهن فما لكم عليهن من عدة تعتدونها} [الأحزاب: 49] من غير تخصيص إلا أن الخلوة الصحيحة في النكاح الصحيح ألحقت بالدخول في حق وجوب العدة لما ذكرنا أنها ألحقت به في حق تأكيد كل المهر ففي وجوب العدة أولى احتياطا، وتجب هذه العدة على الحرة، والأمة. (فصل في عدة الأشهر، ج 3 ص 192، ط: دار الکتب العلمیۃ)۔
وفی الدر المختار : (ومبدأ العدة بعد الطلاق و) بعد (الموت) على الفور (وتنقضي العدة وإن جهلت) المرأة (بهما) أي بالطلاق والموت لأنها أجل فلا يشترط العلم بمضيه سواء اعترف بالطلاق، أو أنكر.(ج3، ص 52، ط: سعید)۔
وفی رد المحتار : تحت (قوله: لأنها أجل) أي لأن العدة أجل فلا يشترط العلم بمضيه أي بمضي الأول. اهـ. ح وفي عامة النسخ لأنهما بضمير التثنية أي عدة الطلاق وعدة الموت قلت: وهذا مبني على تعريف البدائع من أن العدة أجل ضرب لانقضاء ما بقي من آثار النكاح وقدمنا ترجيحه. .(ج3، ص 52، ط: سعید)۔