کسی لڑکی کے بیوہ ہونے کے بعد اگر سسرال والوں کی طرف سے کوئی مدد نہ کی جارہی ہو تو کیا لڑکی پیدا ہونے والے بچہ کو ان سے ملنے سے روک سکتی ہے یا یہ گناہ ہے، اور کیا بیوہ ہونے کے بعد سسرال والوں کا حکم ماننا ضروری ہے؟
واضح ہو کہ شوہر کی وفات کے بعد بیوہ عورت کے لئے اس کے سسرال والوں کے ذمہ کسی قسم کا نان و نفقہ وغیرہ لازم نہیں ، لہذا سسرال والوں سے اس کا مطالبہ درست نہیں ، البتہ بچہ کے نان و نفقہ کے اخراجات اس کے حصہ میراث سے ادا کئے جائیں گے، اس لئے سسرال والوں پر لازم ہے کہ وہ بچہ کے اخراجات کے لئے اس کے حصہ سے رقم ادا کریں، جبکہ بچہ کے دادا دادی وغیرہ کو کبھی کبھار بچے سے ملنے کا حق حاصل ہے ،جس کے لئے بیوہ کارکاوٹ بننا جائز نہیں، چنانچہ ہر فریق کو اپنی ذمہ داری جان کر اسے پوری کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ خاندان میں بدمزگی پیدا نہ ہو۔
ففي الفقه الإسلامي وأدلته: ولا تجب بالاتفاق نفقة المعتدة من وفاة أو من زواج فاسد أو شبهة اھ (10/ 132)
و في الفقه الإسلامي وأدلته: أما إذا لم يكن الأب موجودا، أو كان فقيرا عاجزا عن الكسب لمرض أو كبر سن أو نحو ذلك، كانت نفقتهم في رأي الحنفية على الموجود من الأصول ذكرا كان أو أنثى إذا كان موسرا، فتجب على الجد وحده إذا كان موسرا، أو على الأم وحدها إذا كانت موسرة. (10/ 141)
و في صحيح مسلم: عن محمد بن جبير بن مطعم، عن أبيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «لا يدخل الجنة قاطع» قال ابن أبي عمر: قال سفيان: يعني قاطع رحم اھ (4/ 1981) واللہ اعلم