السلام علیکم
مفتی صاحب! میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ میری بیوی میرے ساتھ میرے والد کے گھر کے ایک حصّے میں رہنے سے منع کررہی ہے، جہاں کچن، واش روم سب الگ ہے، صرف اس دلیل پر کہ میں اس کے لئے الگ گھر کرایہ پر لینے کی استطاعت رکھتا ہوں تو اسے الگ گھر لے کر دوں، اور کل میرے بھائی مجھے اس سے نکال سکتے ہیں، آپ بتائیں کیا یہ مطالبہ صحیح ہے؟ میں والدین کہ قریب رہ کر ان کا حق ادا کرنا چاہتا ہوں۔
شوہر کہ ذمے اپنی بیوی کے نان ونفقہ اور رہائش کا اس طرح انتظام کرنا شرعاً لازم اور ضرروی ہے کہ وہ کسی کی محتاج نہ رہے ، اس لئے رہائش میں ایسامستقل کمرہ، باورچی خانہ اور بیت الخلاء کا ہونا ضروری ہے، جس میں کسی دوسرے کا اشتراک اور عمل دخل نہ ہو، لہذ ا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل نے اسی گھر میں اپنی بیوی کو الگ کمرے کا انتظام کرکے دیا ہے جس کے ساتھ باورچی خانہ اور بیت الخلاء بھی ہے، اور وہ اپنا سامان اس میں رکھ کر تالا لگاسکتی ہے تو شرعی اعتبار سے شوہر پر واجب سکنی(رہائش ) کی ذمہ داری پوری ہوچکی ہے، اور اس کے بعد بیوی کے لئے الگ مکان کا مطالبہ درست نہیں، لہٰذا سائل کی بیوی کو اپنے اس مطالبہ سے احتراز کرنا چاہئیے ۔
کما فی الھندیۃ : تجب السكنى لها عليه في بيت خال عن أهله وأهلها إلا أن تختار ذلك الخ ( ج۱، ص۵۵۶، کتاب الطلاق، الفصل الثانی فی السکنی ط۔ماجدیہ)۔
و فی رد المحتار : إن أمكنه أن يجعل لها بيتا على حدة في داره ليس لها غير ذلك،الخ (ج۳، ص۶۰۱، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ط۔سعید)۔
و فی الھدایۃ : فصل " وعلى الزوج أن يسكنها في دار مفردة ليس فيها أحد من أهله إلا أن تختار ذلك " لأن السكنى من كفايتها فتجب لها كالنفقة وقد أوجبه الله تعالى مقرونا بالنفقة (الی قولہ) ولو أسكنها في بيت من الدار مفرد وله غلق كفاها لأن المقصود قد حصل " وله أن يمنع والديها وولدها من غيره وأهلها من الدخول عليها "الخ ( ج۲، ص۲۸۸، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ط۔ دار أحیاء بیروت)۔
و فی البحرالرائق و حاشیۃ منحۃ الخالق : أي الإسكان للزوجة على زوجها؛ لأن السكنى من كفايتها فتجب لها كالنفقة، (الی قولہ) ليس له أن يشرك غيرها فيه؛ لأنها تتضرر به الخ (ج۴، ص۲۱۰، باب النفقۃ، ط۔دارالکتاب)۔