میری بہن کی شادی دو سال قبل ہوئی ہے، بہن ایک اچھی نوکری کرتی ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنا اور اپنی ایک بیٹی کا سارا خرچہ خود برداشت کرتی ہے، شوہر اگر خوش ہو تو کبھی کبھار بیٹی کے لیے دودھ اور کپڑے لے آتا ہے اور اگر دل نہ چاہے تو دو، تین مہینے تک بھی کوئی خیر خبر نہیں لیتا، بہن ہمارے ساتھ رہتی ہے ،اور اس کا شوہر اپنی ماں کے گھر میں رہتا ہے، وہاں وہ اپنی بیوی کو ساتھ نہیں رکھتا اور نہ ہی شوہر کے گھر والے چاہتے ہیں کہ اس کی بیوی وہاں رہے ، شوہر چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ہو کر مہینوں خبر نہیں لیتا ،اس عید پر بھی صرف اس بات پر ناراض ہو گیا کہ تم نے (بیوی) میرے بھائی کے بچوں کو عیدی کیوں نہیں دی ؟ میرے ابو ان کے گھر ملنے گئے تو ان کی (بہنوئی) امّی نے جو کہ میری خالہ بھی ہیں ، ابو کو بہت سنائی اور ابھی تک میرے بہنوئی کو بھی (ہمارے ہاں ) نہیں بھیجا، برائے مہربائی بتائیں کہ ہم کیا کریں ؟ تمام پہلو اختیار کر کے دیکھ لیے ہیں، لیکن وہ کچھ دن ٹھیک رہتا ہے پھر ناراض ہو جاتا ہے اور عدم ناراضگی کے دنوں میں بھی خرچہ نہیں دیتا، میری بہن کے حقوق (زوجیت) بھی ادا نہیں کرتا ، ہمیں کیا کرنا چاہیئے ؟ اور کوئی وظیفہ بھی بتائیں۔ جس سے گھریلو حالات ٹھیک ہو جائیں . اور یہ مسئلہ حل ہو جائے ! شکریہ
شخص مذکور کا اپنی بیوی اور بچی کو نفقہ نہ دینا ان کے دیگر حقوق کا خیال نہ کرنا سخت ظلم اور گناہ ہے اس کا مذکور طرز عمل خلاف ِشرع اور خلافِ مروت بھی ہے ،اس لیے انہیں چاہیئے کہ اپنے اس طرز عمل سے احتراز کر کے اپنے گھر کو بسانے کی فکر کرے اور گناہ کی زندگی سے نکلنے کی کوشش کرے۔ بصورت دیگر سائلہ کی بہن طلاق یا خلع لیکر ایسے ظالم سے آزادی حاصل کر سکتی ہے جبکہ اس سلسلہ میں شوہر کو مہربان کرنے لیے سورہ بقرہ کی آیت نمبر 165 کو لکھ کر اپنے پاس رکھنا بھی مفید رہیگا۔
وفي الفتاوى الهندية: إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية اھ (1/ 488)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: للشقاق) أي لوجود الشقاق وهو الاختلاف والتخاصم. و في القهستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع. اهـ. (3/ 441)
وقوله تعالى : {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ وَلَوْ يَرَى الَّذِينَ ظَلَمُوا إِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ أَنَّ الْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا وَأَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعَذَابِ } [البقرة: 165]