میں کافی عرصے تک وظائف کرتا رہا ہوں، جس کی وجہ سے میں بہت بیمار ہو گیا ہوں، میرے مسائل: ہر وقت بخار رہتا ہے، گلہ خراب رہتا ہے، سانس بند رہتا ہے، کئی سالوں سے قبض ہو گیا ہے، سر کافی بھاری رہتا ہے، پٹے کھنچتے رہتے ہیں، ہر وقت عجیب سی پریشانی رہتی ہے،عجیب و غریب خواب آتے رہتے ہیں، دوائیوں سے یا ورزش سے بھی فرق نہیں پڑتا،پورا جسم ہر وقت کا نپتا رہتا ہے، ہر وقت ایسا محسوس ہوتا ہے، جیسے میرے چاروں طرف آگ لگی ہوئی ہے، کوئی کام کرنے کو دل نہیں لگتا، بد مزاج ہو گیا ہوں، جو وظائف میں کرتا رہا ہوں، وہ یہ ہیں کہ ”عشاء کی نماز کے بعد سو بار درودِ ابراہیم اور سو بار بسم اللہ، پھر سو بار دوباره درودِ ابراہیم، پھر سورۂ يٰسين، سورۂ ر حمٰن، سورۂ واقعہ، سورۂ مزمل ایک ایک دفعہ اور اول آخر درودِ ابراہیم تین دفعہ“ جس بزرگ نے بتائے تھے اس کا انتقال ہو گیا ہے، میں نے اپنا میڈیکل چیک آپ کروایا ہے، کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
آپ سب طرح کے وظائف موقوف کردیں اور صرف صبح و شام کے مسنون و مستحب اعمال و وظائف کا اہتمام رکھیں اور کسی ماہر معالج سے اپنا علاج کروائیں اور اگر کوئی دیندار عامل میسر ہو ، تو اس سے بھی چیک اپ کروا سکتے ہیں اور اگر شادی نہ ہوئی ہو ، تو اس کا بھی جلد اہتمام کریں، مگر یہ والدین کے مشورہ اور اجازت سے ہو اسی میں خیر اور بہتری ہے۔
كما في مشكاة المصابيح: وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إذا تزوج العبد فقد استكمل نصف الدين فليتق الله في النصف الباقي(2 /930)
وفي الهندية: الاشتغال بالتداوي لا بأس به إذا اعتقد أن الشافي هو الله تعالى وأنه جعل الدواء سببا أما إذا اعتقد أن الشافي هو الدواء فلا. كذا في السراجية اھ(5/ 354)
وفيه أیضاً: اعلم بأن الأسباب المزيلة للضرر تنقسم إلى مقطوع به (إلی قوله) وإلى مظنون كالفصد (إلی قوله) وهي الأسباب الظاهرة في الطب وإلى موهوم كالكي والرقية أما المقطوع به فليس تركه من التوكل بل تركه حرام عند خوف الموت (إلی قوله) وأما الدرجة المتوسطة وهي المظنونة كالمداواة بالأسباب الظاهرة عند الأطباء ففعله ليس مناقضا للتوكل اھ (5/ 355)