کیا فرماتے میں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جمعہ کے دن نفل روزہ رکھنا جائز ہے یا نہیں ؟ اگر جائز ہے تو اس حدیث کا کیا مطلب ہے " لا تختصو ليلة الجمعة بقيام من الليالي ولا تخصو يوم الجمعة بصيام من بين الايام الخ بينوا توجروا
تنہا جمعہ کے دن کا روزہ رکھنا جائز ہے اور جن احادیث میں جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت آئی ہے وہ نہی تنزیہی پر محمول ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نفلی روزہ کے لیے صرف یوم جمعہ کو ہی خاص کرے تو یہ تخصیص منع ہے البتہ احتیاط اور بہتر یہ ہے کہ جمعہ کے دن کے ساتھ جمعرات یا ہفتہ کو ملا کر دو روزے رکھے جائیں تاکہ نہی تنزیہی کا ارتکاب بھی لازم نہ آئے۔
کما فی اعلاء السنن : وذهب الجمهور الى ان الكراهة التي فيه التنزيه و قال مالك وابو حنيفة لا يكره )إلى قوله) وما ورد من النهي عنه كما في الحديثين الآتيين محمول على من قيد المطلق كما يدل عليه صریحا قوله عليه السلام " لا تختصر ، و قوله عليه السلام الا ان يصوم فيه " الخ و نحن قائلون بالمنع ايضا لمن خصه كذلك اھ (۹/ ۱۴۹)